امریکا کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کو کیا فائدہ ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پاکستان اور ریاست ہائے متحدہ امریکا نے باہمی تجارت کو فروغ دینے، منڈیوں تک رسائی بڑھانے، سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنے اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دے دی ہے۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق یہ معاہدہ آج واشنگٹن ڈی سی میں پاکستان کے وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، امریکی وزیر تجارت ہاورڈ لٹنک اور امریکی تجارتی نمائندے سفیر جیمیسن گریر کے درمیان ملاقات کے دوران طے پایا۔
اس موقع پر پاکستان کے سیکریٹری تجارت جواد پال اور امریکا میں تعینات پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ بھی موجود تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اہم معاہدے کا اعلان ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ کے ذریعے کیا۔
معاہدے کی اہم خصوصیات:پاکستانی برآمدات پر امریکی درآمدی محصولات میں نمایاں کمی کی جائے گی۔
توانائی، معدنیات، آئی ٹی، کرپٹو کرنسی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ ملے گا۔
امریکی ریاستوں کی سطح پر بھی اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔
پاکستان کی امریکی منڈیوں تک رسائی میں اضافہ اور پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری میں ممکنہ اضافہ ہوگا۔
وزارت خزانہ کے اعلامیے کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط کو نئی بلندیوں تک لے جانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔
معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو گہرا کرنا، سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولنا، اور دوطرفہ اعتماد کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک امریکا تجارتی معاہدہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک امریکا تجارتی معاہدہ
پڑھیں:
ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
تہران(نیوز ڈیسک) ایران اور عراق نے دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے چار معاہدوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کردیے۔
عراقی وزیراعظم کے دورہ تہران کے موقع پر معاہدوں پر دستخط کیے گئے، یہ معاہدے خسروی خانقین بغداد ریلوے کی تعمیر، بغداد اورتہران کو سسٹر سٹیز بنانے، پبلک ایڈمنسٹریشن میں تعاون، تربیت اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ سے متعلق کیے گئے۔
معاہدے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم علی الزیدی کی موجودگی میں کیے گئے۔
صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ عراق سمیت پڑوسی ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنانا ترجیح ہے۔
مزید پڑھیں۔’حکومت مان گئی‘ پٹرول ڈیلرز نے 15 روز کے لیے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لے لی