’ہاں، بھارتی معیشت مردہ ہے‘، راہول گاندھی نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان کی حمایت کردی
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
گزشتہ روز امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی معیشت کو مردہ قرار دیتے ہوئے اس پر 25 فیصد ٹیرف کے ساتھ ساتھ روس کے ساتھ تعلقات پر جرمانہ بھی عائد کردیا۔ اس پوری صورتحال پر ایک طرف بھارتی تجزیہ کاروں نے سخت مایوسی کا اظہار کیا تو دوسری طرف اپوزیشن رہنماؤں نے اِسے حکومت کی ناکام خارجہ اور معاشی پالیسی سے تعبیر کیا اور اِس معاملے کو پارلیمنٹ میں اُٹھانے کا عندیہ بھی دیا۔
اس پوری صورتحال پر بھارتی میڈیا نے جب اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی سے رائے جاننا چاہی تو انہوں نے توقف کیے بغیر ڈونلڈ ٹرمپ کی رائے کو ٹھیک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے سچ کہا ہے، بھارتی معیشت مردہ ہے اور اگر یہ بات کسی کو نہیں معلوم تو وہ ملک کے وزیراعظم اور وزیر خزانہ ہیں۔
مزید پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارت پر مسلسل دباؤ کیوں بڑھا رہے ہیں؟
راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ انہیں خوشی ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایک حقیقت کو بیان کیا ہے۔ راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نریندر مودی صرف صنعتکار گوتم اڈانی کے مفادات کے لیے کام کرتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعظم مودی صرف ایک شخص کے لیے کام کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج بھارت کے سامنے اصل مسئلہ یہ ہے کہ حکومت نے ہماری معیشت، دفاع اور خارجہ پالیسی کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ حکومت ملک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متعدد دعوؤں پر حکومت کی خاموشی پر بھی سخت سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ ہے کہ ٹرمپ نے تقریباً 30 سے 32 بار دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جنگ بندی کروائی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت کے 5 لڑاکا طیارے گرائے گئے۔ اب ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ 25 فیصد ٹیرف بھی عائد کریں گے، مگر سوال یہ ہے کہ وزیراعظم مودی اس پر جواب کیوں نہیں دے پا رہے؟ اصل وجہ کیا ہے؟ کن کے ہاتھ میں اختیار ہے؟
واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر کا کہنا تھا کہ بھارت ہمارا دوست ہے لیکن ہم نے برسوں میں ان سے بہت کم تجارت کی ہے کیونکہ اُن کے ٹیرف دنیا میں سب سے زیادہ ہیں اور اُن کی غیر مالیاتی تجارتی رکاوٹیں بھی انتہائی سخت اور ناقابل قبول ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے ہمیشہ روس سے بڑی مقدار میں فوجی ساز و سامان خریدا ہے اور چین کے ساتھ مل کر وہ روس سے توانائی کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے، ایسے وقت میں جب دنیا چاہتی ہے کہ روس یوکرین میں قتل و غارت بند کرے، یہ تمام چیزیں اچھی نہیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: یورپی یونین 30 فیصد امریکی ٹیرف سے بچ گیا، امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدہ طے
واضح رہے کہ اس سے قبل آج ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو خبردار کیا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے زیر التوا تجارتی معاہدہ طے نہ پایا تو بھارتی درآمدات پر 25 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل اب تک ڈونلڈ ٹرمپ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کرانے کے لیے اپنے ثالثی کردار کا 29 بار ذکر کرچکے ہیں اور ہر بار جب وہ ذکر کرتے ہیں تو بھارت کے اندر نریندر مودی کی حکومت پر اپوزیشن کی جانب سے تنقید بڑھ جاتی ہے جس کی وجہ سے حکمران جماعت کو ہر بار ہزیمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: راہول گاندھی کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر انہوں نے کے ساتھ کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔