سندھ ہائیکورٹ بار کی خواجہ شمس الاسلام کے قتل کی مذمت، کراچی بار کا کل ہڑتال کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ بار کی معروف وکیل خواجہ شمس الاسلام کے قتل کی مذمت کی ہے جبکہ کراچی بار نے واقعے کیخلاف ہڑتال کا اعلان کردیا۔
صدر سندھ ہائیکورٹ بار سرفراز میتلو نے کہا ہے کہ یہ صرف ایک وکیل پر حملہ نہیں پوری وکلا برداری پر حملہ ہے۔
دوسری جانب کراچی بار کے صدر عامر وڑائچ نے کہا ہے کہ کراچی بار کل فل ڈے اسٹرائیک کرے گی، کل وکلا لائحہ عمل کا اعلان کرینگے، ماضی میں بھی معروف وکیل پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
صدر کراچی بار نے کہا کہ پولیس کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے خواجہ شمس کا قتل ہوا، وکلا تنظیموں نے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کراچی بار
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔