ہم 9 مئی کی مذمت کرتے ہیں، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ، چیئر مین پی ٹی آئی
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ہم 9 مئی کی مذمت کرتے ہیں، 9 مئی نہیں ہونا چاہیے تھا اور آئندہ بھی کبھی نہیں ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھاکہ عمرایوب بڑی پارٹی کے اپوزیشن لیڈر ہیں، ان کو فون آجاتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں، چیف جسٹس کو خط ملا تھا وہ ان پٹ لینا چاہ رہے تھے،فوری سزائیں نہ ہوتی تو کچھ ہوبھی جاتا، عمرایوب آج بھی اپوزیشن لیڈر ہیں اور کل بھی ہوں گے، عمرایوب کو سزا بالکل غلط اور ناجائز ہوئی ہے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھاکہ ایسا انصاف نہیں ہوتا، انصاف ہوتا نظر آنا چاہیے، یہ جمہوریت اور انصاف کے ساتھ بڑی زیادتی ہوئی ہے، 9 مئی کی ہم مذمت کرچکے ہیں، 9 مئی نہیں ہوناچاہیے تھا اور آئندہ بھی نہ ہو، نومئی کی آڑ میں آپ ایک پارٹی کو سزا نہ دیں، پورے سسٹم کو ڈی ریل نہ کریں، سیاسی نظام کو ختم نہ کریں۔
کینگرو کورٹس سے سزاؤں کی مذمت کرتے ہیں، ہائبرڈ نظام پاکستان میں اپوزیشن کا خاتمہ چاہتا ہے، مصطفیٰ نواز کھوکھر
جیو نیوز کے مطابق ان کا کہنا تھاکہ یہ بات درست ہے عمرایوب کو چیف جسٹس سے ملاقات کے لیے فون آیا تھا، عمرایوب کو چیف جسٹس سے ملاقات کا کہا گیا تھا، عمرایوب یہاں موجود نہیں تھے، ملاقات کے حوالے سے ابھی اندازہ نہیں کہ کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ عمر ایوب نے کوئی پیغام نہیں بھیجا ان کی چیف جسٹس سے ملاقات کی کوئی خواہش نہیں تھی، چیف جسٹس کی طرف سے پیغام آیا تھا، عمرایوب کا حق تھا انہوں نے خط لکھا تھا شائد وہ اس پر کچھ جاننا چاہ رہے تھے، یہ کچھ بعید نہیں ہے اس سے پہلے بھی چیف جسٹس ایسا کرچکے ہیں۔
انڈس بیسن میں تیل و گیس کے وسیع ذخائر۔۔پاکستان خطے میں توانائی برآمد کرنیوالا ملک بھی بن سکتا ہے، حقائق جانیے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔