کراچی: وکیل خواجہ شمس الاسلام کے قتل کا مقدمہ درج، تحقیقات کیلئے 6 رکنی کمیٹی قائم WhatsAppFacebookTwitter 0 2 August, 2025 سب نیوز

کراچی (آئی پی ایس) کراچی میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کے قتل کا مقدمہ درخشاں تھانے میں درج کر لیا گیا، جب کہ تحقیقات کے لیے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کیماڑی کی سربراہی میں 6 رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جنوبی سید اسد رضا کی جانب سے ملزم کو بیرون ملک فرار سے روکنے کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو بھی خط لکھ دیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی جنوبی کی جانب سے ایف آئی اے کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ملزم عمران خان ولد نبی گل ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرسکتا ہے، لہٰذا ملزم کا نام پروویژنل نیشنل آئیڈینٹیفکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) لسٹ میں شامل کیا جائے، خط کے ساتھ ملزم کے تصاویر اور کوائف بھی ایف آئی اے کے حوالے کی گئی ہیں۔
درخشاں تھانے میں درج کیے گئے مقدمے میں دہشت گردی، قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں، مقدمہ خواجہ شمس الاسلام کے بھائی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔
سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس پی) شعبہ تفتیش جنوبی، ایس پی کلفٹن، ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) کیماڑی اور ڈی ایس پی انویسٹی گیشن کلفٹن، اسٹیشن پاؤس آفیسر (ایس ایچ او) درخشاں اور تفتیشی افسر بھی کمیٹی کے ممبر ہیں۔

یہ 6 رکنی کمیٹی وکیل شمس الاسلام قتل کیس کی تحقیقات کرے گی، کمیٹی حملہ آور کی گرفتاری سے لے کر سزا دلوانے تک کیس پر کام کرے گی۔

ڈی آئی جی جنوبی اسد رضا نے تحقیقاتی کمیٹی کے قیام کا زنوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کے قتل کے خلاف کراچی بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر آج وکلا ہڑتال کر رہے ہیں۔
صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر وڑائچ نے گزشتہ روز ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ پولیس کی غفلت اور لاپرواہی سے سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کا قتل ہوا، ماضی میں بھی معروف وکلا پر حملے ہوتے رہے ہیں۔
صدر کراچی بار کا کہنا تھا کہ خواجہ شمس الاسلام کے قتل کیخلاف ہڑتال اور آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، انہوں نے سینئر وکیل کے قتل کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔
واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام کو گھات لگائے ملزم نے نماز کی ادائیگی کے بعد مسجد سے باہر نکلتے ہوئے فائرنگ کا نشانہ بنایا تھا، واقعے میں مقتول کے بیٹے سمیت 2 افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرایرانی صدر دو روزہ سرکاری دورے پرآج پاکستان آئیں گے ایرانی صدر دو روزہ سرکاری دورے پرآج پاکستان آئیں گے ایف آئی اے میں خود احتسابی کا نیا نظام متعارف اسلام آباد ہائیکورٹ میں آئندہ ہفتے ججز کی ڈیوٹی کا روسٹر جاری اسلام آباد ایکسپریس لاہور سے راولپنڈی جاتے پٹڑی سے اتر گئی، 50 سافر زخمی، وزیراعظم کا اظہار افسوس جنگ کے دوران پتہ چلا کہ ڈیجیٹل میڈیا بہترین ہتھیار ہے، بلاول بھٹو زرداری وزارت داخلہ کا عمران خان کے بیٹوں کی پاکستان آمد سے متعلق بیان سامنے آگیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام رکنی کمیٹی ایف ا ئی اے ایس پی

پڑھیں:

گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث

گل پلازہ آتشزدگی کیس کی انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر لانے کے لیے ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے دائر درخواست مسترد ہونے کے بعد عوام کے حقِ معلومات اور جاری فوجداری تحقیقات کے درمیان توازن ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ سندھ انفارمیشن کمیشن نے قرار دیا ہے کہ چونکہ مقدمہ ابھی زیرِ تفتیش ہے، اس لیے اس مرحلے پر انکوائری رپورٹ جاری کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے اور تفتیشی افسر کی جانب سے چالان عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد متعلقہ دستاویزات عدالتی ریکارڈ کا حصہ بن جائیں گی، جس کے بعد ان تک رسائی قانونی طریقۂ کار کے مطابق ممکن ہوگی۔ کمیشن کے مطابق جاری تحقیقات کے دوران معلومات کی فراہمی سے تفتیشی عمل متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے ضروری ہے کہ تحقیقات بلا رکاوٹ اپنے منطقی انجام تک پہنچیں۔

ایم کیو ایم پاکستان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ گل پلازہ سانحہ عوامی مفاد، شہریوں کے حقِ زندگی اور سرکاری اداروں کی کارکردگی سے جڑا معاملہ ہے۔ پارٹی کے مطابق انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر آنے سے ذمہ داریوں کے تعین، شفافیت اور احتساب کے عمل کو تقویت ملے گی، جبکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے بھی رہنمائی حاصل ہو سکے گی۔

سماعت کے دوران یہ پہلو بھی سامنے آیا کہ کیس کی تفتیش کرنے والے افسران نے بتایا کہ انہیں انکوائری رپورٹ دستیاب نہیں تھی، جبکہ مختلف سرکاری اداروں نے مؤقف اختیار کیا کہ مطلوبہ ریکارڈ ان کے پاس موجود نہیں۔ اس صورتحال نے انکوائری، انتظامی کارروائی اور فوجداری تحقیقات کے باہمی تعلق پر بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

گل پلازہ کیس نے دراصل 2 اہم قانونی اصولوں کو ایک دوسرے کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف عوام کا مطالبہ ہے کہ ایسے بڑے سانحات سے متعلق حقائق منظرِ عام پر آنے چاہییں تاکہ ذمہ داروں کا تعین ہو اور ادارہ جاتی خامیوں کی نشاندہی کی جا سکے۔ دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف ہے کہ اگر کسی مرحلے پر معلومات کی فراہمی سے تحقیقات یا عدالتی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہو تو تفتیش کو ترجیح دینا قانونی تقاضا ہے۔

حقِ معلومات سے متعلق قوانین کا مقصد سرکاری معاملات میں شفافیت کو فروغ دینا ہے، تاہم ان میں یہ گنجائش بھی رکھی گئی ہے کہ حساس نوعیت کے معاملات میں معلومات کی فراہمی اس وقت تک مؤخر رکھی جا سکتی ہے، جب تک تحقیقات اپنے منطقی انجام تک نہ پہنچ جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ گل پلازہ کیس میں اصل سوال صرف رپورٹ کی اشاعت کا نہیں بلکہ اس مناسب وقت کا بھی ہے، جب ایسی معلومات عوامی دسترس میں لائی جانی چاہییں۔

یہ بھی پڑھیے سانحہ گل پلازا: جوڈیشل کمیشن نے انکوائری رپورٹ مکمل کرکے سندھ حکومت کے حوالے کردی

یہ مقدمہ شہری سلامتی کے وسیع تر تناظر میں بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گل پلازہ آتشزدگی نے عمارتوں کے حفاظتی انتظامات، فائر سیفٹی کے نظام، تعمیراتی ضوابط پر عمل درآمد اور متعلقہ اداروں کی نگرانی سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔ ایسے میں انکوائری رپورٹ کو صرف ذمہ داریوں کے تعین کی دستاویز نہیں بلکہ مستقبل کی اصلاحات کے لیے ایک اہم حوالہ بھی تصور کیا جا رہا ہے۔

اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ جاری تحقیقات کب مکمل ہوتی ہیں اور عدالتی کارروائی کس مرحلے تک پہنچتی ہے۔ اگر تحقیقات اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کے بعد انکوائری رپورٹ یا اس کے نتائج عوامی ریکارڈ کا حصہ بنتے ہیں تو اس سے نہ صرف اس مقدمے سے متعلق کئی سوالات کے جواب مل سکیں گے بلکہ یہ بھی واضح ہوگا کہ اس سانحے سے حاصل ہونے والے اسباق کو ادارہ جاتی اصلاحات میں کس حد تک ڈھالا جا سکا۔

یوں گل پلازہ کیس محض ایک انکوائری رپورٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان میں شفافیت، مؤثر تحقیقات اور ادارہ جاتی احتساب کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ڈاکٹر محمد طفیل جامعہ کراچی کے قائم مقام وائس چانسلر مقرر، نوٹیفکیشن جاری
  • پی ڈی ایم اے کا دورہ : انتظامیہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کیلئے پوری طرح تیار ہے، خواجہ سلمان رفیق
  • راولپنڈی: ہولی فیملی اسپتال میں مبینہ غفلت، نومولود بچی کا انگوٹھا کٹ گیا، مقدمہ درج
  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی