اسلام آباد ایکسپریس کو پیش آئے حادثے کی وجہ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
اسلام آباد ایکسپریس کو شاہدرہ اسٹیشن کے قریب پیش آئے حادثے کی وجہ سامنے آگئی۔
جوائنٹ رپورٹ کے مطابق ٹرین فریش بریکیج آف ریل کی وجہ سے ہوئی ہے، ٹرین کا حادثہ پٹری کے ٹوٹنے کی وجہ سے ہوا ہے، پٹریوں کی حالت کافی نازک ہونے کی وجہ سے ٹرین ڈیل ریل ہوئی۔
جائے حادثہ پر ٹریک جگہ جگہ سے ٹوٹ گیا ہے، ٹرین حادثہ ،وزادت ریلوے کے اعلی 3 افسران پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی گئی، 3 رکنی انکوائری کمیٹی میں ایڈیشنل جی ایم انفراسٹرکچر حماد رضا شامل ہیں، چیف مکینکل انجنیئر کیرج یوسف لغاری، ڈائریکٹر سول ورک عارف الرحمان بھی شامل ہیں۔
کمیٹی 7 روز میں حادثے کی انکوائری رپورٹ وزارت ریلوے کو ارسال کرے گی، ابتدائی رپورٹ وزیر ریلوے حنیف عباسی کو پیش کر دی گئی، ابتدائی رپورٹ کے مطابق حادثہ جوائنٹ ٹوٹنے کے باعث پیش آیا، حادثے کی ابھی مزید پہلوؤں سے جانچ پڑتال کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی وجہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔