کراچی(نیوز ڈیسک)معروف پاکستانی امریکن بزنس مین اور سماجی کارکن انوش احمد نے معاشرے کے مستحق اور ضرورت مند افراد کی مدد کے جذبہ کے تحت پاکستان بھر جامع فلاحی کاموں کا آغاز کراچی سے کردیا۔ انوش انک فائونڈیشن کے ذریعے شروع کئے گئے فلاحی پروگرام کے تحت ہفتہ کو کراچی کے پسماندہ علاقوں اورنگی ٹائون میں مسلم کمیونٹی اورپولیس لائنز سولجر بازار میں مسیحی برادری میں راشن کے 200تھیلے تقسیم کئے گئے۔راشن کے تھیلے آٹا، چاول، دالیں ، آئل، چائے کی پتی اور چینی جیسی ضرورت کی بنیادی اشیاء پر مشتمل تھے جو ایک ماہ کیلئے ایک گھر کی ضروریات باآسانی پوری کرنے کیلئے کافی ہے۔ انوش فائونڈیشن کی ٹیم اور مقامی رضاکاروں نے مل کر راشن کے تھیلے تقسیم کئے ۔یہ پروگرام مختلف قومیتوں، زبانوں اور مذاہب کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر اتحاد، یکجہتی اور ہم آہنگی کا پیغام دیتی ہے۔ انوش فائونڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر انوش احمد نے کہا کہ یہ صرف خوراک کی تقسیم نہیں ہے بلکہ ان لوگوں کے ساتھ اظہار یکجہتی بھی ہے جنہیں اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرا یہ ایمان ہے کہ کوئی بھوکا نہ سوئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فلاحی اقدام ان بے شمار طریقوں میں سے ایک ہے جن کے ذریعے ہم پاکستان کے عوام کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام نہ صرف انسانیت کی خدمت کا عملی مظہر ہے بلکہ اپنے والد سے محبت اور ان کی خدمات کو زندہ رکھنے اور ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے خوبصورت ذریعہ بھی ہے ۔یہ پروگرام فائونڈیشن کی ضرورت مند اور مستحق افراد کی بلا تفریق مدد کرنے کی حکمت عملی کا عکاس ہے اور مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کے پیغام کو فروغ دیتا ہے۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ ڈاکٹر انوش احمد نے پاکستان میں فلاحی پروگرام کا آغاز کیا ہو ۔ وہ عرصہ دراز سے تعلیم، ہیلتھ کیئر اور غربت کے خاتمے سمیت مختلف شعبوں میں خاموشی کے ساتھ خدمات سرانجام دیتے آرہے ہیں۔ یہ پروگرام ڈاکٹر انوش احمد کے لیے اس لیے بھی نہایت ذاتی اور خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ان کے والد کی سخاوت، انکساری اور انسانیت کی خدمت کی میراث سے گہرا تعلق رکھتا ہے ۔ انوش اِنک فانڈیشن کا کام یگانگت اور ہمدردی کا خوشگوار پیغام دیتا ہے۔ فائو نڈیشن کے موثر اقدامات کی بدولت پاکستان اور امریکہ میں ہزاروں لوگوں کی زندگیوں میں مثبت آئی ہے۔

Post Views: 9.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ڈاکٹر انوش احمد یہ پروگرام

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کا آغاز، اسحاق ڈار کی شرکت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک