(ویب ڈیسک)یورپ جانا ہر شخص کی خواہش ہے اب ایک یورپی ملک نے سب سے سستا ویزا متعارف کرایا ہے جو صرف 21 ہزار روپے میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اسپین یورپ کے خوبصورت لیکن مہنگے ممالک میں سے ایک ہے تاہم اب اسپین غیر یورپی افراد کے لیے یورپ کی تاریخ کا سب سے سستا ویزا صرف 75 ڈالر (لگ بھگ 21 ہزار روپے پاکستانی) میں فراہم کر رہا ہے۔ اسپین نے نیا ڈیجیٹل نوماڈ ویزا متعارف کرایا ہے۔ یہ ویزا ان غیر یورپی ریمورٹ ورکرز کے لیے ہے، جو اسپین میں ایک سال یا اس سے زائد مدت تک رہنا اور کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسپین کے اسٹارٹ اپ ایکٹ کے تحت شروع کیا جانے والا ’’ڈیجیٹل نوماڈ ویزا‘‘ عالمی ٹیلنٹ اور ریموٹ پروفیشنلز کو راغب کرنے کے لیے ہے، جو روایتی ورک پرمٹ کے مقابلے میں سستا اور آسان ہے۔ یہ ویزا حاصل کر کے غیر یورپی افراد اسپین میں رہائش اختیار کر کے غیر ہسپانوی کلائنٹس یا کمپنیوں کے لیے کام کر سکیں گے۔ یہ ویزا صرف غیر یورپی شہریوں کے لیے ہے۔ ویزہ ہولڈرز کو ریموٹ کام کرنا ہوگا۔ یا تو کسی غیر ہسپانوی کمپنی کے ملازم کے طور پر یا خودمختار پروفیشنل کے طور پر جس کے زیادہ تر کلائنٹ غیر ملکی ہوں۔ اس ویزے کے حصول کے خواہشمند افراد کی 80 فیصد آمدنی اسپین سے باہر کے ذرائع سے ہونی چاہیے جبکہ ویزے کے بعد آپ کو اپنے کلائنٹس یا کمپنی کے ساتھ کم از کم تین ماہ سے کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ویزہ ہولڈرز کی کمپنی یا کاروبار کم از کم ایک سال سے چل رہا ہو۔ اس ویزے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ یہ یورپ کا سب سے سستا ویزا ہے جو صرف 75 ڈالر (پاکستانی 21 ہزار روپے) میں مل سکتا ہے۔ جب کہ روایتی ورک ویزوں کے مقابلے میں درخواست کا عمل تیز اور کم پیچیدہ ہے۔ اس ویزے کے حصول کے بعد آپ ایک سال تک اسپین میں رہ سکتے ہیں اور اس کے بعد بھی قیام کی مدت کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ اگر آپ اسپین میں آمدنی کے طے شدہ تقاضے پورے کرتے ہیں تو اپنے خاندان کے ساتھ بھی رہائش اختیار کر سکتے ہیں۔

درخواست دینے کا طریقہ:
خواہشمند غیر یورپی شہری اپنے ملک سے یا اسپین میں (مثلاً سیاحتی ویزا پر) رہتے ہوئے بھی درخواست دے سکتے ہیں۔ درخواست کے ساتھ ریموٹ ملازمت یا فری لانس معاہدوں کا ثبوت، اس کے علاوہ آپ کے آجر یا کاروبار کا ایک سال سے زیادہ عرصہ سے چلنے کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ امیدوار کو ویزے کی اہلیت کے معیار پر پورا اترنے والی آمدنی کا ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ اس کو اپنے صاف ستھرے کریمنل بیک گراؤنڈ کا ثبوت بھی پیش کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ اسپین اپنی ثقافت، کھانوں اور موسم کی وجہ سے منفرد ہے۔ بارسلونا کی ہلچل، میڈرڈ کی تاریخی دلکشی یا بحیرہ روم کے پرسکون ساحل، ہر جگہ ریموٹ کام کے لیے شاندار ماحول ہے۔ اس سستے ویزا اور دلکش طرز زندگی کے ساتھ، اب آپ کے ڈیجیٹل نوماڈ خواب کو حقیقت بنانے کا بہترین وقت ہے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کرنا ہوگا غیر یورپی ہزار روپے اسپین میں کے ساتھ ایک سال کا ثبوت کے لیے کام کر

پڑھیں:

پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش

پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔

 موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔

پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  •   جی بی الیکشن: مسلم لیگ ن نے اسکردو سے بڑی کامیابی حاصل کر لی
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی