ملکہ الزبتھ دوم کی زیرِ استعمال گاڑی نیلامی کے لیے پیش، متوقع بولی 50 سے 70 ہزار پاؤنڈ
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
سابق برطانوی ملکہ الزبتھ دوم کی ذاتی استعمال میں رہنے والی ایک نایاب رینج روور گاڑی رواں ماہ 23 اگست کو سلور اسٹون فیسٹیول میں نیلامی کے لیے پیش کی جائے گی جس کی ابتدائی بولی 50 ہزار سے 70 ہزار پاؤنڈ کے درمیان متوقع ہے۔
یہ گاڑی 2006 سے 2008 کے درمیان ملکہ کے زیرِ استعمال رہی اور کئی شاہی تقاریب، بشمول 2007 کے رائل ونڈسر ہارس شو میں ملکہ نے اس گاڑی کو ذاتی طور پر چلایا۔ یہ رینج روور ماڈل 4.
یہ بھی پڑھیے: بیگج اسکیم کیا ہے؟ اوورسیز پاکستانی اس کے تحت کون سی گاڑیاں ملک میں لاسکتے ہیں؟
ملکہ کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے گاڑی میں کئی خصوصی تبدیلیاں کی گئی تھیں جن میں آسانی سے سوار ہونے کے لیے مخصوص سیڑھیاں، پچھلے حصے میں گرفت کے لیے ہینڈل اور سیکیورٹی و کمیونیکیشن سسٹمز کے لیے خصوصی کیبلنگ شامل ہیں۔ اگرچہ کچھ ترامیم وقت کے ساتھ ہٹا دی گئی ہیں گاڑی کی اصل حیثیت برقرار ہے۔
آئیکونک آکشنئرز کے مطابق یہ وہ واحد سپرچارجڈ وی8 ماڈل ہے جو شاہی خاندان نے خریدا تھا، جس سے اس کی تاریخی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ 1,20,000 میل کی مسافت طے کرنے کے باوجود یہ گاڑی مکمل سروس ریکارڈ کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بولی شاہی سواری گاڑی ملکہ الزبتھ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بولی شاہی سواری گاڑی ملکہ الزبتھ کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔