بھارتی ایئر لائن میں تھپڑ کھانے والا مسافر لاپتا ہونے کے بعد کہاں سے بازیاب ہوا؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
ممبئی سے کولکتہ جانے والی ایک پرواز میں ذہنی دباؤ (پینک اٹیک) کا شکار ہونے والے 32 سالہ حسین احمد مجمدار کو ایک دوسرے مسافر نے تھپڑ مار دیا تھا۔
یہ واقعہ جہاز کے اندر پیش آیا جب ایئر ہوسٹسز انہیں آرام دہ جگہ پر لے جا رہی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی ایئرلائن میں تشدد کا شکار مسلمان مسافر پُراسرار طور پر لاپتا ہوگیا
واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حفیظ الرحمان نامی مسافر نے حسین کو تھپڑ مارا اور بعد میں وضاحت دی کہ وہ ’پریشان کر رہا تھا‘۔
جہاز کولکتہ پہنچا تو حفیظ الرحمان کو حراست میں لے کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا، مگر کچھ دیر بعد اسے رہا کر دیا گیا۔
A Muslim man was slapped by a passenger on an Indigo flight.
— The Observer Post (@TheObserverPost) August 1, 2025
حسین بھی ایئرپورٹ سے نکل گیا اور اگلے دن سِلچر جانے والی اپنی پرواز میں سوار نہ ہو سکا۔
حسین مجمدار، جو آسام کے ضلع کاچھار کے رہائشی اور ممبئی کے ایک ہوٹل میں کام کرتے ہیں، معمول کے مطابق سِلچر جانا چاہتے تھے، مگر وہ اچانک غائب ہو گئے۔
ان کے والد عبدالمَنان نے بتایا کہ جب انہوں نے ویڈیو دیکھی اور رابطہ کرنے کی کوشش کی تو فون بند ملا۔
پولیس میں رپورٹ درج کرائی گئی اور تحقیقات سے پتا چلا کہ وہ سِلچر کے لیے نہ تو جمعے کو پرواز میں سوار ہوئے، نہ ہفتے کو۔
بالآخر پولیس کو اطلاع ملی کہ وہ آسام کے برپیٹا ریلوے اسٹیشن پر موجود ہیں۔ انہیں بازیاب کر لیا گیا، وہ تھکے ہوئے اور غیر مطمئن لگ رہے تھے اور اب ان کو گھر واپس لے جایا جا رہا ہے۔
سفری پابندیادھر ایئرلائن انڈیگو نے تھپڑ مارنے والے مسافر پر سفری پابندی عائد کر دی ہے۔ کمپنی کے مطابق ہماری اولین ترجیح اپنے مسافروں اور عملے کی حفاظت اور فلاح ہے۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اس شخص پر اندیگو کی تمام پروازوں سے سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یاد رہے، یہ واقعہ جمعرات کے روز ممبئی-کولکتہ پرواز کے دوران پیش آیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسام ایئرلائن انڈیگو بھارت بھارتی ایئر لائن کوکلکتہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایئرلائن انڈیگو بھارت بھارتی ایئر لائن
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔