اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 اگست 2025ء ) ایران کے صدر مسعود پزشکیان وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے، شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس آمد پر ایرانی صدر کا پرتپاک استقبال کیا، اس موقع پر انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ایران کے صدر مسعود پزشکیان دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، گزشتہ روز لاہور پہنچنے کے بعد انہوں نے مزار اقبال پر حاضری دی تھی اور اس کے بعد ان کی صدر مسلم لیگ نواز شریف سے ملاقات بھی ہوئی۔

بتایا گیا ہے کہ ایران کے صدر پاکستان میں آج مصروف ترین دن گزاریں گے، ایرانی صدر کی وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی اور اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے ملاقاتیں طے ہیں، اس سلسلے میں صدر مسعود پزشکیان سب سے پہلے وزیراعظم ہاؤس پہنچے جہاں شہباز شریف نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور جس کے بعد پھر ایران کے صدر کو گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی ترانوں کی دھنیں بجائی گئیں، چاک و چوبند دستے نے مہمان خصوصی کو سلامی پیش کی، ایرانی صدر نے وزیراعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر کے درمیان ملاقات میں باہمی تعاون کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط کیے جائیں گے۔

بتایا جارہا ہے کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں ظہرانے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے جب کہ ایرانی صدر کی آج شام کے وقت صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات شیڈول ہے، صدر مملکت کی طرف سے ایرانی صدرکےاعزاز میں عشائیے کا بھی امکان ہے، دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان باہمی ملاقاتوں میں پاکستان و ایران کے باہمی تعلقات کے مزید فروغ کے علاوہ توانائی و تجارت میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے صدر مسعود پزشکیان وزیراعظم ہاؤس ایران کے صدر شہباز شریف ایرانی صدر کیا گیا پیش کی

پڑھیں:

ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ کر دیے گئے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کو دوبارہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ تقریب اب 24 جولائی کو منعقد ہوگی اور صدر ٹرمپ اس میں شرکت کریں گے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کر لی ہے۔ یہ تقریب واشنگٹن میں صحافیوں اور میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقد کی جاتی ہے اور امریکی سیاسی و میڈیا حلقوں کی اہم تقریبات میں شمار ہوتی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ وہ ’پاگل عناصر‘ کو اپنی طرزِ زندگی یا اپنے شیڈول میں تبدیلی لانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی سرگرمیاں اور سرکاری تقریبات معمول کے مطابق جاری رہیں گی۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ آیا وہ تقریب میں پہلے کی طرح سخت اور دوٹوک انداز میں خطاب کریں گے یا نہیں، تاہم اس بارے میں جلد ہی صورتحال واضح ہو جائے گی۔

صدر ٹرمپ کے مطابق یہ تقریب پنسلوانیا ایونیو پر واقع والڈورف آسٹوریا کے بال روم میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اس مقام کی تعمیر میں ان کا بھی کردار رہا ہے۔

یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس واقعے میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور کو موقع پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

بعد ازاں امریکی حکام نے ملزم پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کا باضابطہ الزام عائد کیا تھا، جس کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پریس ڈنر کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

اب تقریب کی دوبارہ میزبانی کے اعلان کو صدر ٹرمپ کی معمول کی سرگرمیوں کی بحالی اور سکیورٹی اداروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر