ڈرونز یا اڑن طشتریاں، نیو جرسی کی فضا میں کون سی پراسرار چیزیں اڑ رہی ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے انکشاف کیا ہے کہ وہ ’اڑن طشتریوں‘ (UFOs) کے معاملے سے ’مکمل طور پر متاثر‘ اور ’متجسس‘ ہیں، اور اس سال وہ اس پراسرار معاملے کی تہہ تک پہنچنے کا عزم رکھتے ہیں۔
یہ بات انہوں نے ‘روتھ لیس پوڈکاسٹ’ کے ایک حالیہ پروگرام میں کہی۔ وینس نے کہا:
’میں UFOs کے پورے معاملے کا دیوانہ ہوں۔ آخر حقیقت میں کیا ہو رہا ہے؟ وہ ویڈیوز کیا تھیں؟ ہم کیا دیکھ رہے ہیں؟ میں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا، مگر ابھی ہمیں ایوان اقتدار میں آئے صرف 6 ماہ ہوئے ہیں، ہم بہت مصروف تھے۔‘
پچھلے سال پراسرار ڈرونز کی بھرماروینس غالباً گزشتہ سال کے آخر میں نیو جرسی میں دیکھی گئی بڑی تعداد میں پراسرار ڈرونز کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔ ان میں بعض فلائنگ آبجیکٹس کا حجم مبینہ طور پر ایک کار جتنا تھا، جنہیں مختلف فوجی تنصیبات، خصوصاً پیکیٹنی آرسنل ریسرچ سینٹر کے آس پاس دیکھا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے بادلوں پر انسان کھڑے ہیں یا خلائی مخلوق؟ ویڈیو دیکھ کر سوشل میڈیا صارفین دنگ رہ گئے
نومبر اور دسمبر 2024 میں ہزاروں مشتبہ ڈرونز کی اطلاعات پر محکمہ دفاع، ہوم لینڈ سیکیورٹی، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) اور FBI نے مشترکہ تحقیقات شروع کیں۔
FBI نے بعد میں انکشاف کیا کہ انہیں 5,000 سے زائد اطلاعات موصول ہوئیں، مگر ان میں سے 100 سے بھی کم ایسی تھیں جو ’مزید تحقیق کے قابل‘ سمجھی گئیں۔
ٹرمپ حکومت کی وضاحتجنوری 2025 کے آخر میں ٹرمپ انتظامیہ نے معاملے پر ایک اپ ڈیٹ جاری کرتے ہوئے بتایا:
’نیو جرسی میں جن ڈرونز کی نشاندہی کی گئی تھی، ان میں سے اکثریت قانونی اور FAA سے منظور شدہ پروازیں تھیں، جنہیں تحقیقاتی مقاصد کے لیے اڑایا گیا۔‘
یہ بھی پڑھیے نیویارک: آسمان میں پراسرار اشیا کی نقل و حرکت، کیا یہ خلائی مخلوق کی کارستانی ہے؟
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کارولین لیوٹ نے مزید کہا کہ اس معاملے نے شوقیہ افراد کو بھی متاثر کیا، جنہوں نے بغیر اجازت اپنے ذاتی ڈرونز بھی فضا میں چھوڑے۔
آگے کیا؟جے ڈی وینس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اگست میں اس موضوع پر مزید تحقیق کریں گے۔ ان کے بقول ’میں چاہتا ہوں کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچیں، خاص طور پر جو کچھ پچھلے سال پیش آیا۔‘
اس بیان نے نہ صرف یو ایف او کے شوقین افراد بلکہ حکومتی اداروں اور عوامی دلچسپی رکھنے والے حلقوں میں بھی تجسس بڑھا دیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڑن طشتری امریکا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ڈرونز نیو جرسی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڑن طشتری امریکا امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نیو جرسی ڈرونز کی نیو جرسی
پڑھیں:
فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
بدنام زمانہ جنسی اسکینڈل کے سرغنہ جیفری ایپسٹین کی طرح اس کا مبینہ ساتھی اور فرانسیسی ماڈل اسکاؤٹ ڈینیئل سیاد اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانس میں ماڈل ڈینیئل سیاد کے خلاف جنسی زیادتی، انسانی اسمگلنگ اور خواتین کو دھوکے سے جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں شامل کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری تھیں تاہم ان پر ابھی تک باقاعدہ فردِ جرم عائد نہیں کی گئی تھی۔
فرانس میں مردہ پائے گئے ماڈل اسکأٹ ڈینیئل سیاد کی موت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب متعدد خواتین کو جنسی استحصال کے نیٹ ورک میں پھانسنے اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات جاری تھیں۔
فرانسیسی پراسیکیوٹر نے بتایا کہ 69 سالہ ڈینیئل سیاد کی لاش پیرس کے نواحی علاقے کولومب میں واقع ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی۔ موت کی وجوہات جاننے کے لیے باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ فرانزک ٹیسٹس بھی کرائے جائیں گے تاکہ موت کی وجہ معلوم کی جاسکے۔
ڈینیئل سیاد پر الزام تھا کہ وہ ماڈلنگ کے شعبے سے وابستہ نوجوان خواتین کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کراتا تھا۔
متعدد متاثرہ خواتین کا کہنا ہے کہ سیاد نے انہیں ایپسٹین سے ملوایا جس کے بعد وہ مبینہ طور پر جنسی استحصال کا شکار ہوئیں۔
سیاد کے وکیل کا کہنا ہے کہ اگر پوسٹ مارٹم سے دل کا دورہ موت کی وجہ ثابت ہوتا ہے تو اس میں کئی برسوں سے جاری قانونی دباؤ، ذہنی تناؤ اور غیر یقینی صورتحال کا بھی کردار ہو سکتا ہے۔
ایپسٹین کیس سے منسلک متعدد خواتین نے ڈینیئل سیاد کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گواہی سے اس پورے نیٹ ورک کے بارے میں مزید اہم معلومات سامنے آ سکتی تھیں۔
سابق فرانسیسی ماڈل جولیٹ نے دعویٰ کیا کہ 2004 میں سیاد نے ان کا تعارف جیفری ایپسٹین سے کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سچ تک پہنچنے اور اس نیٹ ورک کے تمام کرداروں کو بے نقاب کرنے کی ایک اہم کڑی ختم ہوگئی۔
اسی طرح سابق سویڈش ماڈل ایبّا کارلسن نے بھی اس امید پر رواں برس فروری میں سیاد کے خلاف شکایت درج کرائی تھی کہ جلد گرفتاریاں ہوں گی اور انصاف ملے گا لیکن ان کی اچانک موت سے یہ امید کمزور پڑگئی ہے۔
خیال رہے کہ ماڈل سیاد کا اپنے خلاف عائد الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انھیں ایپسٹین کی مجرمانہ سرگرمیوں کا علم نہیں تھا اور خود بھی وہ اس کے دھوکے کا شکار ہوئے۔
ڈینیئل سیاد کے وکیل مینیا عرب ٹیگرین کا کہنا تھا کہ فرانسیسی تفتیش کاروں نے ابھی تک سیاد سے باقاعدہ پوچھ گچھ نہیں کی تھی لیکن وہ اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق امریکی عدالت کی جانب سے جاری کی گئی تقریباً دو ہزار سے زائد دستاویزات میں بھی ڈینیئل سیاد کا نام سامنے آیا تھا۔
ان دستاویزات میں مبینہ طور پر بتایا گیا کہ سیاد مختلف ممالک کے دوروں کے دوران خواتین کی تصاویر اور معلومات ایپسٹین کو بھیجتے تھے۔
2014 کی ایک ای میل جو عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنی تھی اس میں سیاد نے اپنی سرگرمیوں کو ماہی گیری سے تشبیہ دیتے ہوئے لکھا تھا کہ بعض اوقات شکار آسانی سے مل جاتا ہے اور بعض اوقات ایک بھی مچھلی ہاتھ نہیں آتی۔
استغاثہ نے اس زبان کو خواتین کی تلاش سے تعبیر کیا جبکہ سیاد نے اس کی مختلف تشریح پیش کی تھی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ جیفری ایپسٹین سے وابستہ کسی اہم شخصیت کی موت نے سوالات کو جنم دیا ہو وہ خود 2019 میں نیویارک کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے جہاں وہ جنسی اسمگلنگ کے مقدمے کا سامنا کر رہے تھے۔
امریکی حکام نے جیفری ایپسٹین کی موت کو خودکشی قرار دیا تھا تاہم اس پر آج بھی مختلف سوالات اور سازشی نظریات زیرِ بحث رہتے ہیں۔
اسی طرح ایک اور فرانسیسی ماڈلنگ ایجنٹ اور ایپسٹین کے قریبی ساتھی ژاں لوک برونیل بھی 2022 میں پیرس کی جیل میں مردہ پائے گئے تھے۔ حکام نے ان کی موت کو بھی خودکشی قرار دیا تھا۔