حماس کی جاری کردہ ویڈیو: اسرائیلی یرغمالی اپنی قبر کھودنے پر مجبور
اشاعت کی تاریخ: 3rd, August 2025 GMT
حماس کی جاری کردہ ویڈیو: اسرائیلی یرغمالی اپنی قبر کھودنے پر مجبور حماس کی جاری کردہ ویڈیو: اسرائیلی یرغمالی اپنی قبر کھودنے پر مجبور
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے ایک انتہائی لاغر اسرائیلی یرغمالی کی ویڈیو جاری کی ہے، جس میں اسے بظاہر اپنی قبر کھودنے پر مجبور دکھایا گیا ہے۔ یہ اسرائیلی ان یرغمالیوں میں سے ایک ہے، جو ابھی تک حماس کی قید میں ہیں۔
تل ابیب سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی جاری کردہ اس ویڈیو کا دورانیہ تقریباﹰ پانچ منٹ ہے اور اس میں 24 سالہ ایویاتار ڈیوڈ کو غزہ پٹی میں کسی جگہ ایک بہت تنگ زیر زمین سرنگ میں بیٹھا دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ پروپیگنڈا ویڈیو ہفتہ دو اگست کی سہ پہر جاری کی گئی اور اس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ اسرائیلی شہری کس طرح حماس کی حراست میں بھوک اور غذائیت کی کمی کی وجہ سے جسمانی طور پر انتہائی لاغر اور ہڈیوں کا ڈھیر بن چکا ہے۔
(جاری ہے)
ایویاتار ڈیوڈ کے خاندان کا جاری کردہ مذمتی بیانایویاتار ڈیوڈ ان اسرائیلی یرغمالیوں میں سے ایک ہے، جنہیں حماس اور دیگر فلسطینی تنظیموں کے سینکڑوں مسلح عسکریت پسندوں نے سات اکتوبر 2023ء کے روز اسرائیل میں ایک بڑے دہشت گردانہ حملے کے دوران اغوا کر لیا تھا۔ جنوبی اسرائیل میں حماس کی قیادت میں اس حملے کے دوران 1200 سے زائد افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
مختلف خبر رساں اداروں کے مطابق کل ہفتے کے روز ایویاتار ڈیوڈ کے اہل خانہ نے بھی تصدیق کر دی کہ حماس کی اس پروپیگنڈا ویڈیو میں نظر آنے والا اسرائیلی ایویاتار ڈیوڈ ہی ہے۔ اس ویڈیو کے اجرا کے بعد اس اسرائیلی شہری کے اہل خانہ نے ایک مذمتی بیان میں کہا، ’’حماس ہمارے بیٹے کو شدید بھوک کی ایک بزدلانہ مہم کے دوران اپنے لائیو تجربات کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق اس ویڈیو میں یہ اسرائیلی یرغمالی یہ بتاتا ہوا نظر آتا ہے کہ کس طرح جولائی کے مہینے میں اسے کئی دنوں تک کھانے کے لیے صرف بینز اور دالیں دی گئیں، اور ان کے علاوہ کچھ نہیں۔
ساتھ ہی ایویاتار ڈیوڈ ایک سے زائد مرتبہ یہ بھی کہتا دکھائی دیتا ہے کہ کبھی کبھی تو اسے دو یا تین تین دن تک کھانے کے لیے کچھ بھی نہ دیا گیا۔اس ویڈیو میں ایویاتار ڈیوڈ اسرائیلی وزیر اعطم بینجمن نیتن یاہو سے مخاطب ہو کر یہ کہتا ہوا بھی دکھائی دیتا ہے، ’’آپ نے مجھے بالکل تنہا اور بے یار و مددگار چھوڑ دیا ہے، میرے ملک کے وزیر اعظم نے، آپ نے، جنہیں میری اور دیگر تمام قیدیوں کی دیکھ بھال اور رہائی کو ممکن بنانا تھا۔‘‘ اس ویڈیو میں اس یرغمالی نے ’قیدیوں‘ کی اصطلاح اس لیے استعمال کی کہ حماس اپنے زیر قبضہ اسرائیلی یرغمالیوں کو ’قیدی‘ ہی قرار دیتی ہے۔
اس بظاہر سٹیج کردہ ویڈیو کے آخر میں یہ اسرائیلی یرغمالی اپنے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا بیلچہ پکڑے سرنگ کے اندر ہی ریتلی زمین کھودتا ہوا اور یہ کہتا ہوا نظر آتا ہے، ’’یہاں، اب میں اپنی ہی قبر کھود رہا ہوں۔‘‘
اس ویڈیو کا اختتام حماس کی طرف سے اس تحریری پیغام پر ہوتا ہے: ’’صرف ایک جنگ بندی معاہدہ ہی ان (یرغمالیوں) کو واپس لا سکتا ہے۔‘‘
روئٹرز، اے پی، اے ایف پی، ڈی پی اے
ادارت: شکور رحیم، عدنان اسحاق.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اپنی قبر کھودنے پر مجبور اسرائیلی یرغمالی حماس کی جاری کردہ یہ اسرائیلی کردہ ویڈیو ویڈیو میں اس ویڈیو
پڑھیں:
گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
گوگل نے صارفین کی آن لائن سیکیورٹی مزید مضبوط بنانے کے لیے سیلفی ویڈیو پر مبنی نئی بایومیٹرک شناختی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل صارفین پاس ورڈ یا ریکوری ڈیوائس دستیاب نہ ہونے کی صورت میں اپنے اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل کر سکیں گے۔
کمپنی کے مطابق نیا فیچر بنیادی طور پر اکاؤنٹ ریکوری کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ صارفین ابتدائی مرحلے میں اسکرین پر دی گئی ہدایات کے مطابق ایک مختصر سیلفی ویڈیو ریکارڈ کریں گے جس میں مختلف زاویوں سے چہرہ دکھانا ہوگا تاکہ شناخت محفوظ کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل پلے کی نئی پالیسی، متبادل ایپ مارکیٹس کو راستہ مل گیا
اگر بعد میں صارف اپنا پاس ورڈ بھول جائے، فون گم ہو جائے یا ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن استعمال نہ کر سکے تو وہ نئی سیلفی ویڈیو ریکارڈ کر کے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکے گا۔
گوگل کا سیکیورٹی سسٹم نئی ویڈیو کا پہلے سے محفوظ ویڈیو سے موازنہ کرے گا اور جدید لائیونیس چیک اور اینٹی اسپوفنگ ٹیکنالوجی کی مدد سے اس بات کی تصدیق کرے گا کہ سامنے حقیقی شخص موجود ہے، نہ کہ تصویر، ریکارڈ شدہ ویڈیو یا مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ڈیپ فیک۔
یہ بھی پڑھیں: راستوں کی تلاش کے بعد گوگل میپس میں کھانا منگوانے کا فیچر متعارف کرائے جانے کی تیاریاں
گوگل کا کہنا ہے کہ یہ سہولت روزمرہ لاگ اِن کے لیے نہیں بلکہ صرف اکاؤنٹ ریکوری کے دوران استعمال کی جائے گی۔ کمپنی اس سے قبل پاس کیز (Passkeys)، سیکیورٹی کیز اور ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن جیسے متبادل طریقے بھی متعارف کرا چکی ہے تاکہ روایتی پاس ورڈز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
پرائیویسی سے متعلق خدشات کے جواب میں گوگل نے کہا ہے کہ صارفین کی سیلفی ویڈیوز مکمل طور پر انکرپٹڈ انداز میں محفوظ کی جائیں گی، ان پر صارف کا مکمل اختیار ہوگا اور وہ کسی بھی وقت انہیں حذف کر سکیں گے۔ کمپنی کے مطابق یہ ویڈیوز صرف شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال ہوں گی جب تک کہ صارف کسی اضافی استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی ایک غلطی اور تاجر علی جمیل کے سفرِ آخرت کی کہانی
ماہرین کے مطابق گوگل کا یہ اقدام ٹیکنالوجی کی دنیا میں پاس ورڈ کے بغیر محفوظ لاگ اِن سسٹمز کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ اس سے قبل ایپل، مائیکروسافٹ سمیت متعدد بینک، ایئرلائنز اور سرکاری ادارے بھی بایومیٹرک شناختی نظام اپنا چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گوگل گوگل پاسپورڈ