Express News:
2026-06-03@07:26:41 GMT

امریکا نے سیاحوں پر سخت ویزا بانڈ کی شرط عائد کر دی

اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT

واشنگٹن:

امریکی محکمہ خارجہ نے سیاحتی اور کاروباری ویزوں پر امریکا آنے والے بعض ممالک کے شہریوں کے لیے نیا ویزا سیکیورٹی بانڈ پروگرام متعارف کرا دیا، جس کے تحت مخصوص درخواست دہندگان کو 15 ہزار ڈالر تک کی رقم بطور ضمانت جمع کرانا ہوگی۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق نئی پالیسی کا نفاذ 20 اگست سے ہوگا، جو ابتدائی طور پر بی ون (کاروباری) اور بی ٹو (سیاحتی) ویزہ رکھنے والے افراد پر لاگو کی جائے گی۔

قطری میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ یہ پائلٹ پروگرام اُن ممالک کے شہریوں کی حوصلہ شکنی کے لیے تیار کیا گیا ہے جہاں سے تعلق رکھنے والے افراد میں ویزے کی مدت سے زائد قیام (اووراسٹے) کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ویزہ قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا اور غیرقانونی قیام کی شرح میں کمی لانا ہے۔ بانڈ کی رقم عارضی ہوگی اور قانونی مدت کے اندر واپس جانے والے افراد کو رقم واپس کر دی جائے گی۔

محکمہ خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ اس پالیسی کے تحت پہلے سال میں ہی حکومت کو 2 کروڑ ڈالر تک آمدنی متوقع ہے، جبکہ ساتھ ہی غیرملکی حکومتوں کو بہتر جانچ اور شناختی عمل اپنانے پر آمادہ کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی۔

یاد رہے کہ 2020 میں ٹرمپ انتظامیہ نے افریقی ممالک پر مشتمل اسی نوعیت کا منصوبہ متعارف کرایا تھا، جس کے تحت مخصوص ممالک کے لیے ویزا بانڈ کی شرط رکھی گئی تھی۔

خبر ایجنسی کے مطابق 2023 میں 5 لاکھ سے زائد افراد پر امریکا میں ویزا سے زیادہ قیام کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، جو امریکی امیگریشن پالیسی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے
  • دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک  کیلیے وبال جان بن گئے
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی