تحریک انصاف کی بزرگ رہنماء ریحانہ ڈار ایوان عدل سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 اگست 2025ء ) پاکستان تحریک انصاف کی بزرگ رہنماء ریحانہ ڈار کو گرفتار کرلیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیردفاع خواجہ آصف کے مقابلے میں الیکشن لڑنے والی پی ٹی آئی رہنماء ریحانہ ڈار کو عمران خان کی کال پر احتجاج کے دوران پولیس نے گرفتار کرلیا، ایوان عدل سے پنجاب پولیس انہیں گھسیٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گئی۔
ریحانہ ڈار کی گرفتاری پر ان کے صاحبزادے عمر ڈار نے آج شام 5 بجے جناح ہاؤس سیالکوٹ پر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مادرِ سیالکوٹ ریحانہ ڈار کی بلاجواز گرفتاری و پولیس کی جانب سے ناروا سلوک کے خلاف اور عمران خان کی رہائی کے لیے سیالکوٹ کے تمام کارکنان سے اپیل ہے کہ سب جناح ہاؤس سیالکوٹ پہنچیں۔ بتایا گیا ہے کہ صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کی گرفتاری کو دو سال ہونے پر دی گئی احتجاج کی کال پر آج 5 اگست کو پی ٹی آئی کی طرف سے مختلف مقامات پر ریلیاں نکالی گئیں، لاہور میں نکالی جانے والی پی ٹی آئی کی ایک ریلی سے 6 اراکین پنجاب اسمبلی کو گرفتار کرلیا گیا، ان میں پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین قریشی، ایم پی اے فرخ جاوید مون سمیت 6 اراکین صوبائی اسمبلی شامل ہیں۔(جاری ہے)
تحریک انصاف کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ لاہور میں پولیس نے احتجاجی ریلی میں شامل گاڑیوں پر ڈنڈے مار کر شیشے توڑ دیئے، ان میں چیف آرگنائزر پی ٹی آئی پنجاب عالیہ حمزہ ملک کی گاڑی بھی شامل ہے، جاتی عمرہ پائن ایونیو کے قریب پی ٹی آئی کی ریلی کے موقع پر عالیہ حمزہ کی پولیس کے ساتھ مدبھیڑ ہوئی، جس پر مبینہ طور پر پولیس نے ڈنڈے برسائے اور گاڑی کی سکرین توڑ دی، اس دوران عالیہ حمزہ کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ پی ٹی آئی رہنماء اظہر مشوانی کا کہنا تھا کہ لاہور میں پی ٹی آئی کی احتجاجی ریلی پر پولیس کا کریک ڈاؤن متعدد کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا، لاہور سے 300 سے کارکنان کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں، لاہور پولیس پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مار رہی ہے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے گرفتار کرلیا تحریک انصاف پی ٹی آئی کی ریحانہ ڈار لاہور میں
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔