پی ٹی آئی رہنما خدیجہ شاہ کو عدالت سے بڑا ریلیف مل گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
پشاور : پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی رہنما خدیجہ شاہ کو درج مقدمات میں گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے 19 اگست تک حفاظتی ضمانت دے دی۔
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما خدیجہ شاہ کی مقدمات تفصیلات کے لئے درخواست پر سماعت ہوئی۔رہنما پی ٹی آئی کی جانب سے مقدمات کی تفصیلات کے لیے دائر درخواست پر جسٹس سید ارشد علی نے سماعت کی۔عدالت نے خدیجہ شاہ کو پشاور ہائی کورٹ نے 19 اگست تک حفاظتی ضمانت دے دی ہے اور پولیس کو ان کے خلاف درج مقدمات میں گرفتاری سے روک دیا ہے۔دوران سماعت عدالت نے استفسار کیا کہ "یہ کوئی سیاسی ورکر ہیں؟ ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج کی گئی؟”درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ خدیجہ شاہ ایک سیاسی کارکن ہیں اور جیل میں قید خواتین کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ عدالت سے پہلے بھی حفاظتی ضمانت لی گئی تھی، اور وہ عدالت میں پیش ہوئیں۔تاہم ایڈیشنل اٹارنی جنرل ثناء اللہ نے کہا کہ خدیجہ شاہ نے گزشتہ بار حفاظتی ضمانت حاصل کی لیکن بعد ازاں عدالت میں پیش نہیں ہوئیں۔عدالت نے آئندہ کے لیے ہدایت دی کہ جو بھی درخواست دائر کی جائے، اس کے ساتھ متعلقہ عدالتی احکامات کی کاپی بھی منسلک کی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حفاظتی ضمانت خدیجہ شاہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔