Islam Times:
2026-07-24@13:25:43 GMT

بلوچستان، اسرائیلی دلچسپی کا اگلا ہدف؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT

بلوچستان، اسرائیلی دلچسپی کا اگلا ہدف؟

اسلام ٹائمز: اسرائیل نے السویدا میں قائم کردہ نیٹ ورک کے ذریعے شامی حکومت کی عسکری بحالی کو روکنے، حزب اللہ کے جنوبی اثر کو محدود کرنے اور اردن کی سرحد کے قریب اپنی موجودگی کو اسٹریٹیجک تحفظ دینے میں کامیابی حاصل کی۔ شام کی طرح، بلوچستان میں بھی مذہبی و نسلی جذبات کو بھڑکایا جا رہا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ یہاں ہدف ایران اور پاکستان دونوں ہیں اور بالواسطہ طور پر چین بھی۔ گوادر اور چاہ بہار، دو اسٹریٹیجک بندرگاہیں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے قلب میں واقع ہیں۔ تحریر: عرض محمد سنجرانی

21ویں صدی کی جنگیں صرف ٹینکوں اور بموں سے نہیں، بلکہ بیانیوں، پراکسی نیٹ ورکس، شناختی سیاست، اور جغرافیائی کمزوریوں کو ہدف بنا کر لڑی جا رہی ہیں۔ اسرائیل ان جدید طریقہ ہائے جنگ کا ماہر بن چکا ہے، اور اب اس کا نیا تجربہ گاہ بن رہا ہے، پاکستانی بلوچستان۔ یہ محض ایک علاقائی معاملہ نہیں، بلکہ مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی کو جنوبی ایشیا میں ریپلیکٹ کرنے کی منظم کوشش ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں اسرائیل نے شام، لبنان اور کردستان جیسے خطوں میں مذہبی و لسانی اقلیتوں کو اسٹریٹیجک اثاثے بناکر استعمال کیا۔ اب انہی تجربات کو بلوچستان کے تناظر میں لاگو کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ الجزیرہ، مڈل ایسٹ آئی، انٹرسیپٹ اور ہیومین رائٹس واچ جیسی باوثوق بین الاقوامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی ادارہ میمری (MEMRI) اور اس سے منسلک نیٹ ورکس نے "بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ" کے نام سے ایک نیا تحقیقی فریم ورک جون 2025ء میں قائم کیا، جس کا بانی سابق اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس کرنل یگال کرمون ہے۔

میمری کا پسِ منظر کوئی خالص تحقیقی یا تعلیمی ادارے جیسا نہیں۔ 1998ء سے قائم یہ ادارہ خالصتاً اسرائیلی پالیسی ساز اداروں اور مغربی میڈیا کو "ترجمہ شدہ" عرب، ترک اور فارسی مواد فراہم کرتا ہے، مگر اس کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ مخصوص بیانیہ تراشنا ہے۔ اس کے پیچھے کام کرنے والی ٹیم کا اکثر تعلق اسرائیلی ڈیفنس فورسز، سائبر یونٹ 8200 اور نیشنل سیکیورٹی کونسل سے رہ چکا ہے۔ امریکی نیشنل پبلک ریڈیو (NPR) اور پرو پبلکا نے 2022ء میں اپنی ایک تحقیق میں MEMRI کو اسرائیلی اسٹیبلشمنٹ کا soft propaganda arm قرار دیا تھا۔ بلوچستان اسٹڈیز پروجیکٹ کے ذریعے جاری بیانیے میں دعویٰ کیا گیا کہ "بلوچ قوم" پاکستان اور ایران کی ریاستوں سے نالاں ہے، اور وہ عالمی برادری، خاص طور پر مغرب، کی حمایت سے ایک خودمختار وجود قائم کرنا چاہتی ہے۔ اس پروجیکٹ میں “میر یار بلوچ” جیسے کرداروں کو "مقبول ترین بلوچ اسکالر" ظاہر کیا گیا ہے، حالانکہ بلوچ نیشنل موومنٹ سمیت دیگر حقیقی بلوچ قوم پرست تنظیمیں اسے ایک "جعلی ڈیجیٹل کردار" قرار دیتی رہی ہیں۔ 2025ء میں خود BNM کے ایک اہم رکن نیاز بلوچ نے اس کردار کو بھارت اور اسرائیل کے سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے تیار کردہ بیانیہ ساز ہتھیار کہا۔

یہی حربہ اسرائیل شام کے جنوبی صوبے السویدا میں آزماء چکا ہے۔ وہاں دروزی اقلیت کو بشار الاسد حکومت کے خلاف انسانی حقوق کی بنیاد پر تحفظ فراہم کرنے کے نام پر اسرائیلی ملٹری انٹیلیجنس نے بفر زون قائم کیا۔ "انٹرنیشنل کرائسس گروپ" کی اپریل 2025ء کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیل نے السویدا میں قائم کردہ نیٹ ورک کے ذریعے شامی حکومت کی عسکری بحالی کو روکنے، حزب اللہ کے جنوبی اثر کو محدود کرنے اور اردن کی سرحد کے قریب اپنی موجودگی کو اسٹریٹیجک تحفظ دینے میں کامیابی حاصل کی۔ شام کی طرح، بلوچستان میں بھی مذہبی و نسلی جذبات کو بھڑکایا جا رہا ہے، مگر فرق یہ ہے کہ یہاں ہدف ایران اور پاکستان دونوں ہیں اور بالواسطہ طور پر چین بھی۔ گوادر اور چاہ بہار، دو اسٹریٹیجک بندرگاہیں، بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) کے قلب میں واقع ہیں۔ چین کی اسٹریٹیجک موجودگی کو محدود کرنے کے لیے اسرائیل اور بھارت بلوچستان کو نرم بطن (soft underbelly) سمجھتے ہیں۔

2024ء میں امریکی کانگریس کی ہاؤس فارن افیئرز کمیٹی کے ذیلی اجلاس میں بھی بلوچستان کے "ہیومن رائٹس ایشوز" پر علیحدہ سیشن رکھا گیا، جس میں "بلوچ قوم کے حق خودارادیت" پر بحث ہوئی۔ یہ خود اس بات کی علامت ہے کہ مغرب اس خطے کو کس طرح عالمی تزویراتی کھیل میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جو ریاست فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کو فوجی جارحیت سے کچلتی رہی ہے، وہی ریاست بلوچستان، کردستان، اور دروزی اقلیتوں کے حق خودارادیت کے لیے زبردست ہمدردی کا اظہار کر رہی ہے۔ یہ ہمدردی حقیقی نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش ہے کہ فلسطینی جدوجہد کسی دوسری تحریک سے فکری یا سیاسی اتحاد نہ بنا سکے۔ اگر بلوچ یا کرد فلسطینیوں سے نظریاتی ہم آہنگی پیدا کر لیں، تو اسرائیل کے لیے یہ ایک اسٹریٹیجک دھچکا ہوگا۔ اسی لیے ہر تحریک کو علیحدہ رکھا جاتا ہے، اور الگ الگ ایجنڈوں پر چلایا جاتا ہے۔ ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے سوال یہ نہیں کہ اسرائیل بلوچستان میں کیا کر رہا ہے، سوال یہ ہے کہ پاکستان اور ایران کیا نہیں کر رہے۔

اگر یہ ریاستیں اپنے محروم اور حساس علاقوں میں داخلی اصلاحات، سیاسی شمولیت، شفاف وسائل کی تقسیم اور انسانی حقوق کی پاسداری کو اپنا لائحہ عمل نہ بنائیں، تو بیرونی مداخلت محض ایک "عذر" سے زیادہ کچھ نہیں ہوگا۔ تحریکوں کی قیادت کو بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔ ہر مسکراتا ہمدرد درحقیقت ایک موقع پرست ہو سکتا ہے۔ مصافحہ کرتے وقت دیکھنا ہوگا کہ ہاتھ نرم ہے یا خنجر پوشیدہ ہے۔ اور اگر قیادت محض بیانیے اور فنڈنگ کے فریب میں آگئی، تو ان تحریکوں کا مقدر وہی ہوگا جو کیمپ ڈیوڈ کے بعد عرب قوم پرستی کا ہوا۔  منتشر، معزول، اور تاریخ کے حاشیے پر۔ اگر مشرقِ وسطیٰ کی تباہی سے کچھ سیکھنا ہے تو یہی کہ اصل آزادی اور خودمختاری داخلی خود احتسابی، شراکت داری، اور عوامی شمولیت سے آتی ہے۔ بصورتِ دیگر، اسرائیل جیسے ریاستی فنکار خاموشی سے ایسے علاقے اور بیانیے ہتھیا لیتے ہیں جن کی جڑیں پہلے ہی کھوکھلی کر دی گئی ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے ذریعے یہ ہے کہ رہا ہے

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ

پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔

وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔

آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی  کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔

وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔

مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم