حماس کا غزہ کی آئندہ تشکیل دی جانیوالی حکومتی انتظامیہ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
حماس کا غزہ کی آئندہ تشکیل دی جانیوالی حکومتی انتظامیہ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 6 August, 2025 سب نیوز
غزہ: (آئی پی ایس) فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ پٹی کی آئندہ تشکیل دی جانے والی حکومتی انتظامیہ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کرلیا۔
حماس کے رہنما نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حماس کو غزہ پٹی کی گزرگاہیں اور امدادی کارروائیوں کا کنٹرول سنبھالنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
تنظیم کے رہنما نے بتایا کہ حماس نے غزہ پٹی کی آئندہ تشکیل دی جانے والی حکومتی انتظامیہ میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نیویارک میں منعقد دو ریاستی حل کانفرنس نے فلسطینیوں کے حقوق کو اجاگر کیا، فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت پر سعودی عرب کے مشکور ہیں، فلسطینیوں کی اپنی سرزمین سے بے دخلی روکنے کیلئے بین الاقوامی برادری کی کاوشوں کو سراہتے ہیں۔
حماس رہنما کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام اور حماس پر بہت زیادہ دباؤ ہے، جنگ بندی کے لئے مثبت رویہ اختیار کیا ہوا ہے، نیتن یاہو کی غزہ پٹی پر قبضے کی دھمکی اسرائیل کی بدنیتی کی عکاسی کرتا ہے ، اسرائیلی وزیر اعظم کی دھمکی یرغمالیوں کی جانیں خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
حماس رہنما نے کہا کہ اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ کے جذبات سے بخوبی آگاہ ہیں، اسرائیلی یرغمالیوں کے اہلخانہ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ہر فلسطینی خاندان کا فرد اسرائیلی جیلوں میں قید ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس یرغمالیوں کی رہائی کیلئے ہر وقت تیار تھا تاہم نیتن یاہو ہر دفعہ جنگ بندی کی کوششوں کو ناکام بناتا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیلڈ مارشل عاصم منیر کے صدر پاکستان بننے کی باتیں بے بنیاد ہیں: ڈی جی آئی ایس پی آر بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے عام انتخابات کا باضابطہ اعلان کر دیا بھارت باز نہ آیا تو آئندہ 24گھنٹوں میں ٹیرف میں نمایاں اضافہ کردیں گے، ٹرمپ کی دھمکی مقبوضہ جموں و کشمیر کی قانونی حیثیت سلب کرنے والے سابق گورنر ستیہ پال ملک چل بسے پارلیمنٹ ہاؤس پر بھاری نفری تعینات، قیدی وینز اور اینٹی رائٹ دستے پہنچ گئے، اہم گرفتاریاں متوقع وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو 26 ویں ترمیم پر مذاکرات کی دعوت دیدی عمران خان کی رہائی کو یقینی بناکر دم لیں گے: بیرسٹر گوہرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کی آئندہ تشکیل دی غزہ پٹی کہا کہ
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔