ائیر ایران کی پہلی پرواز کل کوئٹہ پہنچ جائیگی، علی رضا رجائی
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اپنے ویڈیو پیغام میں قائمقام قونصل جنرل نے کہا کہ پاکستانی قوانین کے پابند ہیں۔ متعلقہ حکام کی منظوری پر زائرین کو ویزہ فراہم کر دینگے۔ انہوں نے کہا کہ زائرین کے مسائل حل کرنیکی کوشش کر رہے ہیں۔ ائیر ایران کی پہلی پرواز کل کوئٹہ پہنچ جائیگی۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے قائمقام قونصل جنرل علی رضا رجائی نے کہا ہے کہ زائرین کرام کے لئے ائیر ایران کی پہلی پرواز کھل پہنچ جائے گی۔ زائرین کے مسائل حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوانین کے پابند ہیں، متعلقہ حکام کی منظوری پر فوری ویزہ جاری کر دیں گے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں امور خارجہ کے اسسٹنٹ پروٹوکول افسر سے میری بات ہوئی اور ان کو ایرانی پروازوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی، جس کا افتتاح 7 اگست کو ہے۔ یہ پرواز کل کوئٹہ آئے گی، جس کے بعد زائرین کو خدمات مہیا کی جا سکتی ہیں اور زائرین کو بھی اس حوالے سے مسئلہ نہیں ہوگا۔ ہمارے قونصل خانے نے گورنر ہاؤس سمیت دیگر متعلقہ اداروں سے بھی رابطہ کیا ہے کہ اگر زائرین بائی روڈ سفر نہیں کر سکتے تو پھر وہ پروازوں پر سفر کر سکتے ہیں۔ اگر اس حوالے سے ہمیں کوئی سرکاری نوٹ ملتا ہے تو ہم زائرین کی مدد ضرور کریں گے۔ ان کا ویزہ جاری کرنا ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی حکومت کے قوانین کا خیال رکھتے اور عزت کرتے ہوئے عمل کریں گے۔ ہمارا رویہ تعاون کی بنیاد پر ہوگا۔ کچھ ایسی باتیں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں، جو درست نہیں تھی۔ ہمارے حکام اور یہاں کے حکام کی نظر سے ہی ہم عمل کریں گے، ہمیں جو ہدایات ملیں گی، ہم اسی پر عمل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے زائرین کے جتنے نام ہیں، وہ متعلقہ حکام کو بھیج دی ہے اور ان کی منظوری کا انتظار کر رہے ہیں۔ کچھ سیکٹرز ایسے ہیں جن کی کوشش تھی کہ ان باتوں کا غلط فائدہ اٹھایا جائے اور وہ اپنے مفادات کی تلاش میں تھے۔ حالانکہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم دوستانہ تعامل اور پروٹوکول کی بنیاد پر عمل کریں گے۔ ہمیں یہی امید ہے کہ آپ زیارات جا سکیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران ائیر کی پہلی پرواز کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے بڑی پروازیں رکھ سکتے ہیں، تاکہ زائرین کو لے جانے پر فوری طور پر کام ہو سکے اور زائرین کو اس حوالے سے کوئی مسئلہ نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ ولایت حسین جعفری سے ہمارا رابطہ ہے۔ ہم نے زائرین کی فہرست بھی مہیا کیں، اور ان سے درخواست کی کہ متعلقہ حکام سے منظوری لیں۔ ہم منظوری کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ جیسے ہی ہمیں سرکاری نوٹ مل جاتا ہے تو ویزہ جاری کرنے میں ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ کی پہلی پرواز متعلقہ حکام اس حوالے سے عمل کریں گے کر رہے ہیں زائرین کو
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔