اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس سینیٹر سید علی ظفر کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے خصوصی شرکت کی۔ اجلاس میں “موشن پکچر (ترمیمی) بل 2024” پر تفصیلی غور کیا گیا، جس کا مقصد ملکی فلم انڈسٹری کو درپیش مشکلات کا حل نکالنا ہے۔

عطاء اللہ تارڑ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ فلم کی سرٹیفیکیشن کے حوالے سے تمام ضروری عوامل پہلے سے ہی مدنظر رکھے جاتے ہیں، تاہم ہر بار کابینہ کی سطح پر نیا سینسر بورڈ بنانے اور اس پر طویل بحث سے فلم انڈسٹری کے معاملات تاخیر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ فلم سرٹیفیکیشن بورڈ کی منظوری کا اختیار متعلقہ وزیر کو دے دیا جائے تاکہ فیصلوں میں تاخیر نہ ہو۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد فلموں کی درآمد اور سرٹیفیکیشن سے متعلق کچھ قانونی پیچیدگیاں سامنے آئیں، کیونکہ وفاقی حکومت صرف درآمد تک محدود کردار ادا کرتی ہے، جبکہ سرٹیفیکیشن کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ اس صورتحال میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لانے کے لیے صوبوں کے ساتھ موثر رابطے کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی فلموں نے حالیہ برسوں میں کینیڈا سمیت کئی ممالک میں ریکارڈ بزنس کیا ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے سافٹ امیج کو فروغ ملا۔ وزارت اطلاعات ایسے مثبت تخلیقی منصوبوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتی ہے، اور ان کی راہ میں کسی قسم کی رکاوٹ قبول نہیں کی جائے گی۔

عطاء اللہ تارڑ نے معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ ایسے ماحول میں کوالٹی انٹرٹینمنٹ کو فروغ دے کر مثبت رویوں کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ قائمہ کمیٹی نے سینسر بورڈ کے ایجنڈے کی منظوری دے دی، جبکہ وزیر اطلاعات کی جانب سے نیووڈیک کی بحالی کی تجویز بھی متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔

یہ پیش رفت ملکی فلم انڈسٹری کے لیے ایک مثبت قدم قرار دی جا رہی ہے، جو نہ صرف فنکاروں بلکہ ناظرین کے لیے بھی ایک خوش آئند تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔

Ask ChatGPT

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: فلم انڈسٹری کے لیے

پڑھیں:

ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی

امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔

رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔

خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔

اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔

ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • سیلف کیئر ڈے: خود کو وقت دینے کی عادت کیوں ضروری ہے؟ ماہرین کی مفید تجاویز
  • سندھ تعلیمی بورڈ اصلاحات 2026، آن اسکرین مارکنگ اور خودکار رزلٹ سسٹم منظور
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن