مخصوص نشتوں پر بحال ہونے والے 18 اراکان قومی اسمبلی کی لاٹری ؛71 لاکھ روپے ملنے کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک : مخصوص نشستوں پر بحال ہوئے 18 اراکین قومی اسمبلی کو لاٹری نکلنے کا انتظار ہے، ان کی سال بھر کی تنخواہیں ایک ساتھ ملنے کا امکان ہے۔
اس حوالے سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ تذبذب کا شکار ہے کہ بحال ہوئے ارکان کو پرانی تنخواہیں دینی ہیں یا نہیں؟ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نےفنانس ڈیپارٹمنٹ سے رائے مانگ لی اسپیکر کی منظوری کے بعد رواں اجلاس کے دوران فیصلہ متوقع ہے۔
جنوری 2025ء سے ایم این اے کی تنخواہ 7 لاکھ 30 ہزار ہوچکی ہے، منظوری کی صورت میں ہر ایم این اے کو 71 لاکھ روپے بقایاجات ملنے کا امکان ہے۔ 18ایم این ایز کو ادائیگیوں کیلئے مجموعی طور پر 12کروڑ78لاکھ روپے درکار ہیں۔
7 ماہ کے دوران لاہورکے مختلف علاقوں میں 204 افراد قتل
واضح رہے کہ 13 مئی 2024ء کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر 18 ارکان معطل کیے گئے تھے، 2 جولائی 2025ء کو سپریم کورٹ نے تمام ارکان کو بحال کردیا تھا، بحال ہونے والوں میں 15 خواتین اور 3 اقلیتی ارکان شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔