عید الضحیٰ پر دارالحکومت کو صاف ستھرا رکھنے والوں کیلئے بڑے انعام کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
سٹی 42 : عید الضحیٰ کے موقع پر دارالحکومت اسلام آباد کو صاف ستھرا رکھنے والوں کے لیے بڑے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔
کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اسلام آباد نے عملہ صفائی اور افسران کے لئے اعزازیہ کا اعلان کر دیا ۔
نوٹیفکیشن کے مطابق عید کے دنوں میں ڈیوٹی کرنے والے افسران و ملازمین کے لئے 3 کروڑ 83 لاکھ 49 ہزار اعزازی جاری کیا گیا ۔ اعزازیہ تمام سٹاف کو آدھی بنیادی تنخواہ کے برابر دیا گیا ہے۔
ایف آئی اے نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیے ؛ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
قبل ازیں پنجاب حکومت کی طرف سے عید الاضحیٰ پر مثالی صفائی کرنے والے ہر ورکر کو 10 ہزار روپے کیش ایوارڈ کے طور پر دیے گئے تھے۔
واضح رہے کہ لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں عید الاضحٰی کے تین دنوں کے دوران اس مرتبہ مثالی صفائی کا انتظام کیا گیا تھا۔ لاہور شہر میں اور نواحی بستیوں میں ہزاروں ورکرز یکساں جاں فشانی کے ساتھ صفائی کے کام میں مصروف رہے۔ حکومت کی خاص ہدایت پر تمام کوڑا اکٹھا کرنے کے پوائنٹس کو ہر آدھے گھنٹے بعد مکمل صاف کیا جاتا رہا۔ گلیوں کے اندر جا کر ورکر قربانی کے جانوروں کی باقیات سمیٹ کر لے جاتے رہے۔
صوفی بزرگ شاہ عبد الطیف بھٹائی کا عرس، 9 اگست کو عام تعطیل کا اعلان
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: کا اعلان
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔