UrduPoint:
2026-07-24@01:16:58 GMT

یورپ: یوکرین کے مہاجرین کو کون کتنی امداد دیتا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

یورپ: یوکرین کے مہاجرین کو کون کتنی امداد دیتا ہے؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 07 اگست 2025ء) جرمنی کی سب سے بڑی ریاست باویریا کے وزیر اعلیٰ مارکوس زوئڈر، جرمنی میں مقیم یوکرینی مہاجرین کے لیے امدادی رقم تک رسائی کے لیے موجودہ قوانین کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ قدامت پسند جماعت سی ایس یو کے سربراہ ہیں جو کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کی حامی ہے۔

ان کا خیال ہے کہ چاہے وہ نئے آنے والے ہوں یا برسوں سے جرمنی میں رہ رہے ہوں، یوکرینی مہاجرین کو عموماً کم رقم ملنی چاہیے۔

البتہ زوئڈر کی یہ تجویز سی ڈی یو اور سی ایس یو کے اس معاہدے سے مطابقت نہیں رکھتی، جس پر ان دونوں نے مئی میں سوشل ڈیمو کریٹس (ایس ڈی پی) کے ساتھ موجودہ حکومت کی تشکیل کے لیے دستخط کیے تھے۔

یہ معاہدہ اتحاد کے وجود کی بنیاد بناتا ہے، جس پر دستخط کرنے والی جماعتوں نے ملک میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے والے نئے یوکرینی مہاجرین کی مالی امداد میں کمی کرنے پر اتفاق کیا۔

(جاری ہے)

تاہم، اتحادی معاہدے میں واضح طور پر جرمنی میں پہلے سے مقیم یوکرینی مہاجرین ایسی کٹوتیوں سے مستثنیٰ ہیں۔ یوکرینی پناہ گزینوں کو جرمنی میں کتنا ملتا ہے؟

فی الوقت جرمنی میں جنگ سے فرار ہونے والے یوکرینی پناہ گزینوں کو اتنی ہی رقم ملتی ہے، جو ایک بے روزگار جرمن کو بطور وظیفہ فراہم کی جاتی ہے۔ اس کے تحت سنگل بالغوں کے لیے ماہانہ ساڑھے چھ سو ڈالر کی رقم فراہم کی جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ہی جرمن ٹیکس دہندگان اپنے ایسے مہمانوں کے لیے کرائے اور ہیلتھ انشورنس کی لاگت کا خرچ بھی اٹھاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب جنگ کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور یوکرینی باشندوں کی مدد کی بات آتی ہے تو یورپ میں مالی مدد فراہم کرنے والے ممالک میں جرمنی سب سے زیادہ سخی ملک ہے۔

دوسروں کے برعکس، یوکرائنی پناہ گزینوں کو بھی جرمن لیبر مارکیٹ پہنچنے پر فوری طور پر داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔

باویریا کے زوئڈر اب سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے والے لوگوں کے لیے اس امداد کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سنگل بالغوں کے لیے 353 اور 441 یورو کے درمیان ماہانہ وظیفہ، ان کی زندگی کی صورت حال کے مطابق دیا جائے۔ ایسے خاندانوں کو اپنے ہر بچے کے لیے ماہانہ 299 اور 391 یورو کے درمیان بھی ملے گا۔ یہ ادائیگیاں عمر کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہیں۔

یورپی یونین میں یوکرینی پناہ گزین

یوروپی یونین نے سن 2001 میں قائم کردہ ایک میکانزم کے تحت یوکرینی پناہ گزینوں کو "عارضی تحفظ کے مستحق" افراد کے طور پر درجہ بندی کی ہے۔ ان رہنما خطوط کو پہلی بار 2022 میں اس وقت فعال کیا گیا، جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تھا۔

ان ہدایات میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کے میزبان ممالک کو ایسے پناہ گزینوں کو اس معاملے میں یوکرین کے باشندوں کو رہائش، روزگار اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی فراہم کرنی چاہیے۔

تاہم، رہنما خطوط میں رقوم کی ادائیگیوں یا خدمات کی قدر کی وضاحت نہیں کی گئی ہے، جس کی وجہ سے 27 رکنی بلاک میں زبردست تفاوت پایا جاتا ہے۔ پولینڈ میں کیا ملتا ہے؟

پولینڈ اب ماہانہ ادائیگیاں نہیں کرتا ہے اور یہاں تک کہ وارسا نے یوکرین سے آنے والے ہر بالغ پناہ گزین کے لیے تقریباً 70 یورو کی اپنی پچھلی یک وقتی ادائیگی کو بھی ختم کر دیا ہے۔

پولینڈ میں یوکرین کے پناہ گزینوں کو اس کے بجائے ایک ذاتی شناختی نمبر دیا جاتا ہے، جس سے انہیں ملازمتوں، تعلیم اور مفت صحت کی دیکھ بھال تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔

یوکرین کے والدین کو ان کے پہلے بچے کے لیے ماہانہ 190 یورو دیے حاتے ہیں اس کے بعد ہر بچے کے لیے چھوٹی ادائیگیاں ہوتی ہیں۔ معذور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والدین یا دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد بھی فلاحی امداد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

ہنگری

ہنگری کے وزیرِ اعظم وکٹر اوربان کی حکومت اپنے تارکین وطن مخالف جذبات کے لیے معروف ہے اور اس نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے قوانین کو سخت کر دیا ہے کہ کون سے یوکرینی مہاجرین "عارضی تحفظ کے مستحق" ہیں۔

مثال کے طور پر، مغربی یوکرین کو ہنگری کے قانون سازوں کی نظر میں اب ایک محفوظ مقام کے طور پر دیکھا جاتا ہے، یعنی ان حصوں سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کو سرکاری پناہ گزینوں کی سہولیات پر مفت رہائش کا کوئی حق نہیں ہے۔

بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس قدم نے ہزاروں یوکرینی باشندوں کو سڑکوں پر کھڑا کر دیا ہے۔

بالغ پناہ گزین جو تحفظ کے قابل سمجھے جاتے ہیں ان کے خاندان کے ہر بچے کے لیے ماہانہ 55 یورو کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کے لیے تقریباً 34 یورو ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔

بیلجیم

بیلجیئم میں یوکرین سے تعلق رکھنے والے واحد بالغ پناہ گزینوں کو تقریباً 1,100 یورو ماہانہ امداد ملتی ہے، جو کہ یورپی یونین میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ مزید برآں انہیں عوامی طور پر ہیلتھ انشورنس بھی حاصل ہوتا ہے اور سرکاری خرچے پر ہاؤسنگ کا حق بھی رکھتے ہیں۔ مزید برآں، مہاجرین فرنیچر، کپڑوں، طبی ضروریات (بشمول چشمے) اور خوراک کے حصول کے لیے مالی امداد کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔

سویڈن

سویڈن میں یوکرینی مہاجرین کو ماہانہ وظیفہ نہیں ملتا ہے بلکہ روزانہ کیش الاٹمنٹ ملتا ہے۔ بالغ افراد مہینے کے آخر تک تقریباً 180-190 یورو تک وصول کر سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب ان کی کوئی دوسری آمدن نہ ہو۔

بچوں کے لیے ادائیگی میں تقریباً 140 یورو ماہانہ کا اضافہ ہوتا ہے۔ اضافی فنڈز میں موسم سرما کے لباس یا بچوں کی گاڑیوں جیسی اشیاء کے لیے بھی دستیاب ہیں۔

یوکرین کے پناہ گزینوں کو نظریاتی طور پر شیشے جیسی چیزوں کے لیے فنڈز تک رسائی حاصل ہے، پھر بھی انہیں عام طور پر صرف ہنگامی حالات میں یا دیکھ بھال کے معاملے میں طبی امداد کا حق حاصل ہے، جس میں تاخیر نہیں کی جا سکتی۔ برطانیہ

برطانیہ کو اب یورپی یونین کے قوانین کی پابندی نہیں کرنی ہوتی کیونکہ وہ اس بلاک سے نکل چکا ہے۔ وہاں حکومت یوکرین کے پناہ گزینوں کے خاندانوں کو ان کے سب سے بڑے بچے کے لیے ہر ہفتے تقریباً 30 یورو مختص کیے ہیں، جبکہ باقی تمام بچوں کے لیے مزید 20 یورو فی ہفتہ دیا جاتا ہے۔

ایسے بچوں کے لیے دیکھ بھال کے اخراجات کو پورا کرنے میں مدد کے لیے اضافی ادائیگیاں فراہم کی جاتی ہیں جو اسکول جانے کے لیے بہت کم عمر کے ہیں۔

ریٹائر ہونے والے (خواتین کے لیے 66 سال کی عمر، مردوں کے لیے 67 سال) ہفتے میں 230 یورو کے اہل ہیں۔

بالغ پناہ گزینوں سے متعلق اصول، جن کی ریٹائرمنٹ کی عمر ابھی تک نہیں پہنچی ہے، کافی پیچیدہ ہیں اور اکثر انفرادی بنیادوں پر ان کا حساب لگایا جاتا ہے۔

ایک امدادی پروگرام، مثال کے طور پر، ہومز فار یوکرین، یوکرینی باشندوں کو برطانیہ کے شہریوں کے ساتھ رہائش تلاش کرنے میں مدد کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پروگرام پناہ گزینوں کو تقریباً 230 یورو ایک وقتی ادائیگی کرتا ہے، جبکہ ساتھ ہی یہ ان کی میزبانی کرنے والے افراد کے لیے 400 یورو ماہانہ ادائیگی کا تعین کرتا ہے۔

برطانیہ کا "یونیورسل کریڈٹ" پروگرام پناہ گزینوں کو مزید مالی مدد صرف اسی صورت میں فراہم کرتا ہے، جب ان کی بچت ایک خاص حد سے نیچے آجائے۔ وہ کتنی رقم وصول کر سکتے ہیں اور اسے کس چیز کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اس کا انحصار مہاجرین اور ان کی موجودہ مالی صورتحال پر منحصر ہوتی ہے۔

ص ز/ ج ا (کارلا بلائیکر)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یوکرینی مہاجرین پناہ گزینوں کو کے لیے درخواست کے لیے ماہانہ یوکرینی پناہ یورپی یونین یورو ماہانہ بچوں کے لیے میں یوکرین بچے کے لیے بالغ پناہ یوکرین کے دیکھ بھال کے طور پر تک رسائی سکتے ہیں کے ساتھ کرتا ہے جاتا ہے ملتا ہے

پڑھیں:

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار