سیکریٹری جنرل آسیان ڈاکٹر کاؤ کم ہورن — فائل فوٹو

جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر کاؤ کم ہورن کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ دیرپا، جامع اور باہمی فائدے پر مبنی تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔

پاکستان اور آسیان کے موضوع پر انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز اسلام آباد میں سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔

سیمینار میں سیکریٹری جنرل آسیان ڈاکٹر کاؤ کم ہورن نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ پاکستان اور آسیان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری 3 دہائیوں میں مضبوط بنیادوں پر استوار ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آسیان ریجنل فورم میں شمولیت خطے میں امن کے لیے عزم کا ثبوت ہے۔ 2023 میں دو طرفہ تجارت7.

47 بلین ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 10.45 بلین ڈالر ہوئی۔ 

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی شہریوں کی آسیان ممالک آمد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے، آسیان وژن 2045 خطے میں پائیدار ترقی، خوشحالی اور عوامی مرکزیت کی عکاسی کرتا ہے۔

کاؤ کم ہورن  کا کہنا ہے کہ ہم پاکستان کے ساتھ نیوکلئیر انرجی کے پُرامن استعمال اور انرجی کے حوالے سے تعاون کے خواہاں ہیں۔ پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی سفارتکاروں کے لیے آسیان ڈپلومیٹک کورس انسانی وسائل کے فروغ کی عمدہ مثال ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: سیکریٹری جنرل کاؤ کم ہورن کہ پاکستان

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی