سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں آبادی کے بڑھنے کی سالانہ شرح 2.55 فیصد ہے، تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی ترقی اور انکو اپنی معیشت کا فعال حصہ بنانے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ 

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس کے حوالے سے مسائل کے حل کے لئے  اقدامات کا جائزہ لیاگیا۔

وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ ملکی آبادی کا  بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، نوجوان ہمارے ملک کا انتہائی اہم اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے متعدد اقدامات لیے جا رہے ہیں۔ 

ایف آئی اے نے بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض کی کرپشن کے ناقابل تردید ثبوت حاصل کرلیے ؛ وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ

شہباز شریف نے کہا کہ خواتین ہماری افرادی قوت کا بہت بڑا حصہ ہیں، خواتین کو ملازمت کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات لیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی اور انکے مسائل سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے تعاون سے مؤثر حکمت عملی تشکیل دی جائے، اس حوالے سے قومی سطح کی پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ 

وزیراعظم نے مؤثر پالیسی اور حکمت عملی بنانے کے لیے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے بڑھتی آبادی اور  مسائل سے نمٹنے کےلیے صوبوں کے تعاون سے مؤثر حکمت عملی بنانے کی بھی ہدایت کردی۔

صوفی بزرگ شاہ عبد الطیف بھٹائی کا عرس، 9 اگست کو عام تعطیل کا اعلان

اجلاس میں وزیراعظم کو اس حوالے مختلف گزارشات پیش کی گئیں۔ ساتھ ہی بریفنگ میں بتایا گیا کہ صوبوں کے تعاون سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اسکے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک قومی سطح کی پالیسی کی ضرورت ہے، معاشی ترقی کے تناظر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے عوام میں قومی سطح پر آگاہی مہم چلانا ناگزیر ہے۔ 

اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی ڈاکٹر احسن اقبال، وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف،  وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔

انٹر بینک میں مہنگا، اوپن مارکیٹ سے بھی ڈالر کی خبر آگئی

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بڑھتی ہوئی آبادی وفاقی وزیر آبادی اور ضرورت ہے کہا کہ کے لیے نے کہا

پڑھیں:

سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔

جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟

ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔

عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
  • لاہور میں 4 روز کے دوران کتنی ملی میٹر بارش ہوئی؟ پی ڈی ایم اے رپورٹ جاری
  • وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم