امریکی صدر نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں، بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ صدر ٹرمپ کی امن کے لیے کوششیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانی چاہئیں، امریکی صدر نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں۔
اسلام آباد میں بلاول بھٹو زرداری سے سینئر ڈائریکٹر امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل نے زرداری ہاؤس میں ملاقات کی۔ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ آصفہ بھٹو زرداری بھی موجود تھیں۔ملاقات کے موقع پر سینیٹر شیری رحمان اور امریکی ناظم الامور نتالی بیکر بھی موجود تھیں۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ، علاقائی سلامتی اور تجارتی و سفارتی تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار ناقابل فراموش تھا، صدر ٹرمپ کی امن کے لیے کوششیں بین الاقوامی سطح پر تسلیم کی جانی چاہئیں، امریکی صدر نوبیل امن انعام کے حقدار ہیں۔بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان اور امریکا کے درمیان حالیہ تجارتی معاہدوں کا خیر مقدم کرتے ہوئےکہا کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ تجارتی تعاون بڑھانےکا خواہاں ہے، حالیہ تجارتی معاہدے خطے میں ترقی و خوشحالی کا نیا باب کھول سکتے ہیں۔
ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری امریکی صدر
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔