زرتاج گل پارلیمانی لیڈر،قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھی ،احمد چٹھہ ،صاحبزادہحامد رضا، رائے حسن نوازسے کمیٹیوں کی رکنیت واپس،نوٹیفکیشن جاری
اسپیکر قومی اسمبلی نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری جلد کریں گے ، آزاد اراکین پارلیمانی اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کیلئے نئے نام دوبارہ تجویز کریں،قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی ہدایت

قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی اپوزیشن لیڈر کا عہدہ خالی قرار دے دیا گیا ہے، جس کے بعد پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کو سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے تحریک انصاف کے عمر ایوب کو قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ہٹانے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے بعد اپوزیشن لیڈر کا منصب باضابطہ طور پر خالی قرار دے دیا گیا ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نئے اپوزیشن لیڈر کی تقرری کے لیے جلد نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔ اس کے علاوہ، تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے دیگر اہم پارلیمانی عہدے بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔زرتاج گل کو پارلیمانی لیڈر اور احمد چٹھہ کو ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا ہے، جبکہ پی ٹی آئی سے اپوزیشن لیڈر کا چیمبر بھی خالی کرا لیا گیا ہے۔تحریک انصاف کے آزاد اراکین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ پارلیمانی لیڈر اور ڈپٹی پارلیمانی لیڈر کے لیے نئے نام دوبارہ تجویز کریں۔ علاوہ ازیں، عمر ایوب کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اور فنانس کمیٹی سے بھی ڈی لسٹ کر دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی کے 7 نااہل ارکان سے 15 قائمہ کمیٹیوں کی رکنیت بھی واپس لی جا چکی ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا کی قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی چیٔرمین شپ ختم کردی گئی، زرتاج گل قائمہ کمیٹی انسانی حقوق کی رکنیت سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں اور رائے حسن نواز سے قائمہ کمیٹی ریلوے کی چیٔرمین شپ واپس لے لی گئی۔سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کو ڈی نوٹیفائی کردیا گیا اور سینیٹ سیکریٹریٹ نے اپوزیشن لیڈر کی نشست خالی قرار دے دی۔پی ٹی آئی رہنماء شبلی فراز پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی رکنیت سے بھی فارغ ہوگئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: پارلیمانی لیڈر اپوزیشن لیڈر قائمہ کمیٹی قومی اسمبلی دیا گیا ہے شبلی فراز پی ٹی ا ئی کی رکنیت لیڈر کی

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن