ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں اضافے کا فیصلہ ، اطلاق کی تاریخ سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) وفاقی وزارتِ خزانہ نے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کے لیے خوشخبری سنا دی۔ وزارت کی جانب سے جاری نئے آفس میمورینڈم کے مطابق یکم جولائی 2025 یا اس کے بعد ریٹائر ہونے والے تمام وفاقی ملازمین کی پنشن میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ یہ اضافہ برابری کی بنیاد پر تمام وفاقی پنشنرز پر لاگو ہوگا۔ 2011 سے 2024 کے درمیان دیے گئے پانچ مختلف ایڈہاک ریلیف الاؤنس اب مستقل طور پر پنشن کا حصہ بن جائیں گے۔ اس کے لیے گراس پنشن میں سے کمیوٹ شدہ رقم منہا کرنے کے بعد ان پانچ اضافوں کو شامل کیا جائے گا۔
اعداد و شمار کے مطابق، ان پانچ ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی مجموعی شرح 70 فیصد بنتی ہے۔ اس حساب سے سرکاری ملازمین کی بیس لائن پنشن ہی آئندہ کے لیے نیٹ پنشن تصور ہوگی، جس میں یہ تمام سابقہ اضافے بھی شامل ہوں گے۔
تفصیلات کے مطابق، ان میں 2011 میں دیا گیا 15 فیصد، 2015 میں 7.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔