نیب کا عوامی مفاد کے تحفظ اور لوٹی گئی قومی دولت کی بازیابی کے لیے عزم کا اعادہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
نیب کا عوامی مفاد کے تحفظ اور لوٹی گئی قومی دولت کی بازیابی کے لیے عزم کا اعادہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)قومی احتساب بیورو (نیب) نے سال 2025 کی پہلی دو سہ ماہیوں میں 31.547 ارب روپے کی ریکارڈ بازیابی کی، جبکہ 33.532 ارب روپے مالیت کی منقولہ و غیر منقولہ جائیدادیں وفاقی و صوبائی وزارتوں، محکموں اور مالیاتی اداروں کے حوالے کی گئیں۔ اس عرصے میں دھوکہ دہی کے مختلف مقدمات میں 12,611 متاثرین کو ان کی لوٹی ہوئی رقوم واپس دلوائی گئیں۔
سال 2025 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران نیب نے 3.
نیب سکھر نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی 25 ارب روپے مالیت کی زمین اور سندھ کے محکمہ تعلیم و خواندگی کی 127 کنال 15 مرلہ اراضی، جس کی مالیت 160.895 ملین روپے ہے، بازیاب کرائی۔
نیب لاہور نے ایڈن کیس میں ریکور شدہ 3.2 ارب روپے کی رقم 11,880 متاثرین میں تقسیم کی، جبکہ پاک عرب ہاؤسنگ کیس میں 9.3 ارب روپے مالیت کی آٹھ جائیدادیں بازیاب کر کے 2,500 متاثرین کو رقم کی صورت میں فراہم کرنے کا اعلان کیا۔
نیب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کے تحفظ اور لوٹی گئی قومی دولت کی بازیابی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کا دورہ وزیراعظم کا آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے کا خیرمقدم سپریم کورٹ کے جج نے بحریہ ٹاؤن کی جائیدادوں کی نیلامی میں جلد بازی پر سوال اٹھا دیا عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت ملتوی خیبر پختونخوا میں حکومت کی تبدیلی خارج از امکان نہیں،مناسب وقت پر اکثریت ثابت کرینگے، امیر مقام شمالی وزیرستان میں جمعہ سے پیر کی صبح تک کرفیو نافذCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف بغاوت؛ ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کیلیے نیاحکم جاری
افغان طالبان رجیم کی مرکزی قیادت اور بدخشاں کے مقامی کمانڈروں کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔
طالبان رجیم کے خلاف بغاوت کے اشارے ملنے پر ملا ہبت اللہ کا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے نیا حکم جاری کردیا گیا ہے۔ بدخشاں کے معدنی وسائل پر لڑائی اور عوامی بغاوت کے بعد امیر ہبت اللہ نے حالات کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سخت حکم نامہ جاری کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق بدخشاں کے ناراض طالبان کمانڈروں اور حکام کے اثاثوں کی تفتیش کے لیے اعلیٰ سطح کا وفد مقرر کردیاگیا ہے۔ طالبان کے سربراہ ملا ہبت اللہ کا حکم نہ ماننے والے مقامی کمانڈروں کو فوراً گرفتار کرنے کی دھمکی دی گئی ہے۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بدخشاں میں جاری عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی اندرونی بغاوت کو دبانے کے لیے خصوصی فوجی دستہ بھی تعینات کر دیاگیا ہے۔ قندھار گروپ نے بدخشاں گروپ کے ناراض طالبان رہنماؤں پر دباو ڈالنے کے لیے گرفتاریاں بھی شروع کر دی ہیں۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈر موسیٰ کاکے اور سابق مائنز ڈائریکٹر اسلام الدین کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کردیاگیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق بدخشاں میں جاری لڑائی افغان طالبان کے اندر گہرے ہوتے ہوئے نسلی اور سیاسی اختلافات کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان رجیم کیخلاف ملک کے اندر اور باہر شروع ہونے والی نئی تحریکیں،ان کے مکمل کنٹرول اور عوامی حمایت کے جھوٹے دعووں کی پول کھول رہی ہیں۔