لبنان میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو میں دھماکا، 6 اہلکار جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
جنوبی لبنان میں لتانی دریا کے جنوب میں حزب اللہ کے گولہ بارود کے ڈپو میں دھماکے کے نتیجے میں 6 لبنانی فوجی جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق لبنان میں حزب اللہ کے اسلحہ ڈپو میں دھماکے سے 6 فوجی اہلکار جاں بحق ہوگئے ہیں، فوجی اہلکار مجدل زون اور وادی زبقین، صور کے علاقے میں اسلحے کے ذخیرے کا معائنہ کر رہے تھے کہ دھماکا پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: لبنانی کابینہ کا حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا عزم، شیعہ وزرا کا واک آؤٹ
جاں بحق ہونے والوں میں 5ویں انفنٹری بریگیڈ کے 4 اور انجینئرنگ رجمنٹ کے 2 اہلکار شامل ہیں۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گولہ بارود حزب اللہ کا تھا، لبنانی فوج معاہدہ جنگ بندی اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 کے تحت ضبط شدہ ہتھیاروں اور گولہ بارود کو ناکارہ بنانے کے عمل میں مصروف تھی۔
صدر جوزف عون نے فوجی کمانڈر جنرل رودولف ہائکل سے رابطہ کر کے واقعے کی تفصیلات معلوم کیں۔ صدارتی محل کے اعلامیے میں کہا گیا کہ دھماکا اس وقت ہوا جب انجینئرنگ رجمنٹ کے اہلکار گولہ بارود ہٹانے اور ناکارہ بنانے کا کام کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل پر حزب اللہ کے حملے سے 11 افراد زخمی، تل ابیب ایئرپورٹ سے فلائٹ آپریشن متاثر
صدر نے شہدا کے لواحقین اور فوج سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک نے آج اپنے بہترین سپاہیوں کو کھو دیا جو لبنان کی سرزمین اور خودمختاری کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کر گئے‘۔
وزیراعظم نواف سلام نے بھی فوجی شہدا کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فوج قومی خودمختاری اور اتحاد کی ضامن ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب لبنانی حکومت نے ملک میں اسلحے پر ریاستی کنٹرول بحال کرنے اور امریکی منصوبے کے نفاذ کا فیصلہ کیا ہے، جس کی حزب اللہ مخالفت کررہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ میں مداخلت کی تو امریکی اڈے نشانہ بنیں گے، عراقی حزب اللہ کی امریکا کو دھمکی
لبنانی فوج کے مطابق جمعے کی شب بیروت میں حزب اللہ کے حامی مظاہرین کے جتھوں کو شہر میں داخل ہونے اور بدامنی پھیلانے سے روکا گیا۔ فوجی کمان نے شہریوں کو سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں اور پرانے ویڈیوز کے ذریعے افراتفری پھیلانے کی کوششوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ امن عامہ اور سیکیورٹی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلحہ ڈپو اہلکار جاں بحق حزب اللہ دھماکا لبنان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلحہ ڈپو اہلکار جاں بحق حزب اللہ دھماکا میں حزب اللہ کے گولہ بارود
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ