پاکستان کی 58 ویں یومِ آسیان کی تقریبات میں بھرپور شرکت
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے 58ویں یومِ آسیان کی رنگا رنگ تقریبات میں بھرپور شرکت کی، جن میں پاکستان کے ثقافتی ورثے کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔
تقریب نِفٹی سفئیر انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جہاں طلبہ نے موسیقی، رقص اور روایتی فنون کے ذریعے پاکستان کی تہذیبی روایات کو اجاگر کیا۔ تقریب کا مقصد پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی، سیاسی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کو مزید فروغ دینا تھا۔
تقریب میں آسیان رکن ممالک کے سفرا نے بھی شرکت کی، جن کی قیادت میانمر کے سفیر اور اسلام آباد میں آسیان کمیٹی کے چیئرمین ونا ہان نے کی۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
انہوں نے خطاب میں آسیان ممالک کو 58ویں یومِ تاسیس کی مبارکباد دیتے ہوئے اسے علاقائی تبدیلی کی ایک شاندار مثال اور ترقی پذیر دنیا کے لیے ایک تحریک قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کے 1993 سے ویژن ایسٹ ایشیا پالیسی کے تحت طویل المدتی شعبہ جاتی مکالمہ شراکت دار کے طور پر کردار کو اجاگر کیا۔
وزیر نے آسیان کمیونٹی وژن 2025 کی کامیاب تکمیل کو سراہا اور وژن 2045 کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے سائبر سیکورٹی، غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال جیسے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آسیان ریجنل فورم کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے آسیان پاکستان تعاون فنڈ کو عملی شراکت داری کا اہم ذریعہ قرار دیا اور بتایا کہ 2024–2028 تعاون منصوبے کے تحت 31 میں سے تقریباً 30 فیصد اقدامات پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ 2022 میں پاکستان اور آسیان کے درمیان 10 ارب ڈالر کی ریکارڈ تجارتی حجم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تجارتی عدم توازن کو دور کرنے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔
میانمر کے سفیر ونا ہان نے کہا کہ آسیان کا قیام 8 اگست 1967 کو بینکاک میں ہوا اور آج اس کا 58واں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمارے اجتماعی کارناموں پر نظر ڈالنے اور بانی رہنماؤں کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے۔
انہوں نے پاکستان کو آسیان کا سب سے پہلا اور طویل المدتی شعبہ جاتی مکالمہ شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے شراکت داری کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے آسیان کمیونٹی وژن 2045 اور اس کے اسٹریٹجک منصوبوں کی حمایت جاری رکھنے کی درخواست کی۔
نِفٹی سفئیر کے سی ای او عثمان شاہ نے اپنے خطاب میں ادارے کے مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم تخلیقی پلیٹ فارمز اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کی متنوع ثقافتی شناخت کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔