پاکستان کی 58 ویں یومِ آسیان کی تقریبات میں بھرپور شرکت
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان نے 58ویں یومِ آسیان کی رنگا رنگ تقریبات میں بھرپور شرکت کی، جن میں پاکستان کے ثقافتی ورثے کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا گیا۔
تقریب نِفٹی سفئیر انسٹی ٹیوٹ آف آرٹس اینڈ ڈیزائن کے اشتراک سے منعقد ہوئی، جہاں طلبہ نے موسیقی، رقص اور روایتی فنون کے ذریعے پاکستان کی تہذیبی روایات کو اجاگر کیا۔ تقریب کا مقصد پاکستان اور آسیان ممالک کے درمیان ثقافتی ہم آہنگی، سیاسی تعاون اور اقتصادی شراکت داری کو مزید فروغ دینا تھا۔
تقریب میں آسیان رکن ممالک کے سفرا نے بھی شرکت کی، جن کی قیادت میانمر کے سفیر اور اسلام آباد میں آسیان کمیٹی کے چیئرمین ونا ہان نے کی۔ وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔
انہوں نے خطاب میں آسیان ممالک کو 58ویں یومِ تاسیس کی مبارکباد دیتے ہوئے اسے علاقائی تبدیلی کی ایک شاندار مثال اور ترقی پذیر دنیا کے لیے ایک تحریک قرار دیا۔ انہوں نے پاکستان کے 1993 سے ویژن ایسٹ ایشیا پالیسی کے تحت طویل المدتی شعبہ جاتی مکالمہ شراکت دار کے طور پر کردار کو اجاگر کیا۔
وزیر نے آسیان کمیونٹی وژن 2025 کی کامیاب تکمیل کو سراہا اور وژن 2045 کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ انہوں نے سائبر سیکورٹی، غذائی تحفظ، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال جیسے نئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آسیان ریجنل فورم کو فعال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے آسیان پاکستان تعاون فنڈ کو عملی شراکت داری کا اہم ذریعہ قرار دیا اور بتایا کہ 2024–2028 تعاون منصوبے کے تحت 31 میں سے تقریباً 30 فیصد اقدامات پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ 2022 میں پاکستان اور آسیان کے درمیان 10 ارب ڈالر کی ریکارڈ تجارتی حجم کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تجارتی عدم توازن کو دور کرنے اور سرمایہ کاری میں اضافہ کی ضرورت پر زور دیا۔
میانمر کے سفیر ونا ہان نے کہا کہ آسیان کا قیام 8 اگست 1967 کو بینکاک میں ہوا اور آج اس کا 58واں یومِ تاسیس منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہمارے اجتماعی کارناموں پر نظر ڈالنے اور بانی رہنماؤں کے وژن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع ہے۔
انہوں نے پاکستان کو آسیان کا سب سے پہلا اور طویل المدتی شعبہ جاتی مکالمہ شراکت دار قرار دیا اور کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے شراکت داری کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے آسیان کمیونٹی وژن 2045 اور اس کے اسٹریٹجک منصوبوں کی حمایت جاری رکھنے کی درخواست کی۔
نِفٹی سفئیر کے سی ای او عثمان شاہ نے اپنے خطاب میں ادارے کے مشن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہم تخلیقی پلیٹ فارمز اور نوجوانوں کی صلاحیتوں کے ذریعے پاکستان کی متنوع ثقافتی شناخت کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔