الحمرا ہال میں 30فٹ لمبا ‘ 64فٹ چوڑا سبز ہلالی پرچم آویزاں
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
لاہور(کلچرل رپورٹر)لاہور آرٹس کونسل الحمراء 78ویں یوم آزادی کے موقع پر ہفتہ بھر کیلئے آزادی کی تقریبات منا رہا ہے۔فنون لطیفہ کے رنگ برنگ پروگرامز پیش کئے جا رہے ہیں۔اسی مناسبت سے کنسرٹ کا انعقاد کیا گیا۔پروگرام میں نامور آرٹسٹ جبار عباس نے پرفارم کیا۔دوران پرفارمنس ہال عوام سے بھرا رہا،یہ الحمراء ہی کا خاصہ ہے کہ وہ ایسے پروگرام ترتیب دیتا ہے جسے عوام میں مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔جبار عباس کی آواز جذبہ ومٹھاس سننے والوں کے کانوں میں رس گولتی رہی،اپنی گائیکی کی بدولت جبارعباس کا فن منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس اہم موقع پر الحمرا ہال نمبر کی پیشانی پر 30فٹ لمبا اور 64فٹ چوڑا سبز ہلالی پرچم آویزاں کر دیا گیا۔خوشی کے اس موقع پر الحمراء کی عمارت، لانز، درختوں کو سفید اور سبز روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔سیکرٹری اطلاعات وثقافت پنجاب اور ایگزیکٹوڈائریکٹر الحمراء سید طاہر رضا ہمدانی نے اس موقع پر کہا کہ سبز ہلالی پرچم کا یہ خوبصورت منظر دیکھنے والوں میں ملی جوش و خروش اور اپنے وطن سے محبت کا باعث بنتا ہے،وطن عزیز کی منفرد و الگ ادبی وثقافتی،تہذیبی و تمدنی شناخت پر فخر ہے جسے بھرپور انداز میں اْجاگر کر رہے ہیں،آزادی کی قدر وقیمت سے نوجوانوں کو روشناس کروا رہے ہیں۔چیئرمین الحمراء رضی احمد نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اس اہم موقع پر آزادی کے نغموں پر مبنی پروگرام پیش کر کے مادر ملت سے اپنی محبت کا اظہار کر رہے ہیں،یہ دیکھ کر اچھا لگتا ہے کہ عوام الحمراء کے پروگرامز کی زینت بنتے ہیں اور یہ امر ہمارے لئے قابل فخر اور حوصلہ افزا ء ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: رہے ہیں
پڑھیں:
سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
راولپنڈی ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) علیمہ خان کا سہیل آفریدی کو مشورہ، کہا سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ جب بھی حکومت کو لگتا ہے عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کیلئے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا ہم سے سوال کرنے کے بجائے حکومت سے جواب طلب کرے کہ عمران خان کو گزشتہ 7 ماہ سے غیر قانونی قیدِ تنہائی میں کیوں رکھا گیا ہے؟ صحافی وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے جا کر اس قیدِ تنہائی کی وجہ پوچھیں، ہمارا خاندان کسی قسم کا سیاسی این آر او یا ریلیف نہیں مانگ رہا، قیدِ تنہائی کا خاتمہ عمران خان کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔(جاری ہے)
علیمہ خان نے الزام لگایا کہ گزشتہ 8 مہینوں سے عمران خان کو ذہنی و جسمانی ٹارچر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، ملک میں کوئی قانون نہیں چل رہا، اگر حکومت ہمیں جیل میں ڈالنا چاہتی ہے تو شوق سے ڈال دے، لیکن عمران خان کی آنکھوں کے علاج اور معائنے کے لیے انہیں فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے اور وہاں کے ماہر ڈاکٹرز سے ان کا طبی معائنہ کروایا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سابق آرمی چیف کیوں عمران خان سے ملنے جائیں گے؟ وہ تو عمران خان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھ ہی نہیں سکتے، پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی واضح کر دیا ہے کہ یہ تمام باتیں بالکل جھوٹ ہیں، جب بھی حکومت کو لگتا ہے کہ عوام کا غصہ اور ٹمپریچر بڑھ رہا ہے، تو یہ خود کو بچانے کے لیے ڈیل کی باتیں اور افواہیں پھیلانا شروع کر دیتے ہیں، جبکہ حقیقت میں کوئی ڈیل نہیں ہو رہی۔ عمران خان کی ہمشیرہ نے کہا کہ جب آپ لوگوں کے ووٹ چوری کریں گے اور عوام سمجھ جائیں گے کہ ان کے ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں رہی، تو پھر ان کا شدید ردعمل آئے گا، حکومت کبھی لاٹھی سے تو کبھی گولی سے عوام کو مارتی ہے، ووٹ چوری سے پی ٹی آئی کا نہیں بلکہ اس عام شہری کا حق مارا جاتا ہے جس کا وہ ووٹ ہوتا ہے، گلگت بلتستان میں بھی وہی کچھ دہرایا جا رہا ہے جو عام انتخابات 2024ء میں کیا گیا تھا، وہاں پی ٹی آئی کو انتخابی مہم تک چلانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، یاد رکھیں ظلم ہمیشہ وہی کرتا ہے جو اندر سے خود شدید خوفزدہ ہوتا ہے۔ علیمہ خان نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی کی قیادت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ آ کر یہاں بیٹھیں، جب قیادت آئے گی تو تمام ایم این ایز، ایم پی ایز، سینیٹرز اور تنظیم کے سینئر رہنما یہاں موجود ہوں گے، اگر پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت اس فائنل کال پر بھی باہر نہیں نکلتی، تو پھر میڈیا اور عوام کا حق ہے کہ وہ ان رہنماؤں سے سوال کریں کہ وہ اپنے عظیم لیڈر کے لیے باہر کیوں نہیں آ رہے۔