کراچی میں ڈمپر کی ٹکر سے بہن بھائی جاں بحق، والد زخمی، حادثےکے بعد مشتعل شہریوں نے 7 ڈمپر جلادیے
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
کراچی میں ڈمپر چلتی پھرتی موت بن گئے، شہر قائد کے علاقے فیڈرل بی ایریا لکی ون شاپنگ مال کے قریب ڈمپر نے موٹر سائیکل سواروں کو کچل دیا۔ریسکیو حکام کے مطابق حادثے میں شدید زخمی ہونے والے دونوں بہن بھائی ہسپتال منتقل کئے گئے مگر وہ جانبر نہ ہوسکے، جبکہ ڈمپر کی ٹکر سے والد زخمی ہوا۔جاں بحق ہونے والی بہن اور بھائی کی شناخت 22 سالہ ماہ نور اور 14 سالہ احمد رضا جبکہ زخمی والد کی شناخت شاکر کے نام سے ہوئی ہے۔حادثے کے بعد شہری مشتعل ہوگئے اور 7 ڈمپروں کو آگ لگا دی، شہریوں نے موٹر سائیکل کو ٹکر مارنے والے ڈمپر ڈرائیور پر تشدد کے بعد اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی ہے اور صورتِ حال پر قابو پانے کی کوشش کی، فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں بھی طلب کی گئیں، فائر بریگیڈ اور ریسکیو حکام نے ڈمپرز میں لگی آگ کو بجھایا، پولیس نے ڈمپر جلانے کے الزام میں متعدد افراد کو بھی حراست میں لے لیا۔دوسری جانب آگ لگانے کے خلاف ڈمپر ڈرائیور ایسوسی ایشن نے احتجاج کرتے ہوئے سپرہائی وئے سہراب گوٹھ سے سڑک ٹریفک کیلئے بند کر دی جس کی وجہ سے ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہے، ڈمپر ڈرائیور ایسوسی ایشن نے نیشنل ہائی وے بھی بلاک کرنے کا اعلان کر دیا۔صدر ڈمپر ایسوسی ایشن حاجی لیاقت محسود نےدعویٰ کیا کہ حادثہ ٹینکر کی ٹکر سے ہوا اور مشتعل افراد نے ڈمپر کو آگ لگا دی، 7 ڈمپرز جلانے کی ذمہ داری سندھ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے ڈمپر حادثے میں بہن بھائی کی موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے پر مشتعل شہری قانون ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔ان کا کہنا تھا کہ کہ سندھ حکومت حادثہ کے ذمہ دار ڈرائیور کو قرار واقعی سزا دلوائے اور شہریوں کی جان سے کھیلنے والی ڈمپر مافیا کو لگام دے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کراچی، 7 سالہ بچی کے اغوا اور قتل میں ملوث ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک
کراچی کے علاقے کیماڑی سے 7 سالہ بچی کو اغوا اور زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہوگیا۔
ایس ایس پی کیماڑی سنگھار ملک نے بتایا کہ جیکسن پولیس دعا کے اغوا، زیادتی کے بعد قتل کیس کی تفتیش میں مصروف تھی کہ تھانے کی حدود میں آنے والے ایک علاقے میں پولیس مقابلہ ہوا جس میں ملزم ہلاک ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیجز اور شواہد کی بنیاد پر مشتبہ شخص کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی، پولیس ملزم کی گرفتاری کیلیے اسٹریٹ مبارک مسجد کے قریب پہنچی تو ملزم نے اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔
مزید پڑھیںکیماڑی میں جھاڑیوں سے کمسن بچی کی لاش برآمد، مشکوک شخص کی ویڈیو سامنے آگئی
2 سالہ بچے آذان کے اغوا میں ملوث 3 ملزمان گرفتار، مرکزی ملزم والد کا دوست نکلا
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق جوابی فائرنگ میں ملزم مارا گیا جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد تحویل میں لے کر قانونی و فرانزک کارروائی شروع کردی گئی ہے۔
سنگھار ملک کے مطابق ہلاک شخص کے کوائف اور بچی کے اغواء و قتل کیس سے ممکنہ تعلق کی جانچ جاری ہے جبکہ پولیس سرجن نے معصوم بچی دعا کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی ہے۔