وزیراعظم محمد شہباز شریف کی منظوری سے رحمت العالمین و خاتم النبیین ﷺ اتھارٹی کے لیے رواں ماہ 6 اگست کو جاری کیے گئے ارکان کی تقرری کے نوٹیفکیشن میں شامل ایک خاتون رکن، ڈاکٹر فرخندہ ضیا ڈیڑھ ماہ قبل انتقال کر چکی تھیں۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وزیراعظم آفس اور وزارت تعلیم ان کے انتقال سے لاعلم تھے۔

وزارت تعلیم نے وزیراعظم کی منظوری سے 6 ارکان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کیا، جن میں ڈاکٹر فرخندہ ضیا کا نام بھی شامل تھا۔ تاہم وہ 22 جون 2025 کو وفات پا چکی تھیں۔

مزید پڑھیں: کے پی: مزدور کی اجرت 36 ہزار روپے، پولیس میں بھرتیوں سمیت مختلف امور کی منظوری

وزارت تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ تقرری کی سمری اس وقت وزیراعظم آفس بھجوائی گئی تھی جب وہ حیات تھیں، لیکن چیئرمین رحمت العالمین و خاتم النبیین ﷺ اتھارٹی نے ان کے انتقال کی اطلاع وزارت کو نہیں دی، ورنہ سمری میں تبدیلی ممکن تھی۔ ڈاکٹر فرخندہ ضیا کی جگہ اب ایک نیا پینل وزیراعظم آفس کو ارسال کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

، ڈاکٹر فرخندہ ضیا انتقال رحمت العالمین و خاتم النبیین ﷺ اتھارٹی وزارت تعلیم وزیراعظم آفس وزیراعظم محمد شہباز شریف.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر فرخندہ ضیا انتقال رحمت العالمین و خاتم النبیین ﷺ اتھارٹی وزارت تعلیم وزیراعظم محمد شہباز شریف ڈاکٹر فرخندہ ضیا رحمت العالمین وزارت تعلیم کی منظوری

پڑھیں:

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز

وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز ہونے کا خدشہ ہے جب کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل ہیں۔

ذرائع نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کے لیے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔

ذرائع نے کہنا تھا کہ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے، وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کے لیے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کے لیے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے،41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے بھی شامل ہیں، ان منصوبوں کے لیے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع نے کہا کہ وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • جزوی لاک ڈاون، وزیراعظم نے نئے کاروباری اوقات کی منظوری دیدی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • توانائی بچت مہم، وزیراعظم نے کاروباری اوقات کار کی منظوری دیدی
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • امتحان میں کامیابی کے باوجود عبدالمجید نوکری سے محروم، عمر کی حد رکاوٹ بن گئی
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • معاون خصوصی / وزیر مملکت نے اپنی وزارت میں پندرہ لاکھ کے مساج کا بل جمع کروادیا
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا