وزیراعظم سے سعودی سفیر کی ملاقات، ولی عہد کی جانب سے سرمایہ کاری فورم کا دعوت نامہ دیا
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے ملاقات کی۔ سعودی سفیر نے وزیر اعظم کو 27 تا 30 اکتوبر 2026ء کو ریاض میں ہونے والے نویں فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹو (FII) فورم میں شرکت کے لیے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے دستخط شدہ دعوت نامہ پیش کیا۔ کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے وزیر اعظم نے دعوت نامہ بھیجنے پر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دلی شکریہ ادا کیا۔ وزیراعظم نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران خطے کی حالیہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ قبل ازیں ایکس پر پوسٹ میں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ٹرمپ کی سرپرستی میں طے پانے والے تاریخی امن معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے ۔ وزیراعظم نے لکھا کہ یہ تاریخی پیش رفت جنوبی قفقاز کے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جو عشروں سے جاری تنازعات اور انسانی مصائب کا شکار رہا ہے، یہ معاہدہ امن، استحکام اور تعاون کا پیغام لاتا ہے۔ ہم صدر الہام علیوف اور آذربائیجان کے عوام کو اس تاریخی معاہدے پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، جو ایک پرامن مستقبل کی راہ ہموار کرنے میں ان کی دانائی، دور اندیشی اور بصیرت کا مظہر ہے، پاکستان نے ہمیشہ برادر ملک آذربائیجان کا ساتھ دیا ہے اور اس تاریخ ساز لمحے پر ہم ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہم اس معاہدے کے لیے فریقین کو قریب لانے اور ایک نتیجہ خیز سمجھوتہ طے کرانے میں امریکہ، خصوصا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سہولت کار کردار کو بھی سراہتے ہیں، یہ معاہدہ تجارت، روابط اور علاقائی انضمام کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مکالمے کی یہ روح دیگر ایسے خطوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بنے گی، جو طویل المدتی تنازعات کا شکار ہیں۔ شہباز شریف سے صدر نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ملاقات کی اور بلوچستان کی ترقی کے لئے خصوصی کوششوں پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور وہاں کے عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت بلوچستان کے نوجوانوں کو تعلیم اور روزگار کے یکساں مواقع فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کی ترقی کے لئے خصوصی کوششیں کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔شہباز شریف نے گوادر میں پانی اور بجلی کے مسائل حل کرنے کی ہدایت کر دی۔ گوادر میں پانی کی قلت پر اجلاس میں وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی وزیر پاور ڈویژن اور منصوبہ بندی کمشن کے ساتھ متعلقہ سیکرٹریز 15 اگست کو گوادر پہنچیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشاورت سے گوادر کے شہریوں کو بلاتعطل پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بلوچستان کی شہباز شریف نے کہا کہ ولی عہد کے لئے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔