غزہ کی تنگ و تاریک گلیوں میں ایک بچہ کبھی گیند کے پیچھے دوڑتا تھا جس کے خواب سمندر جتنے وسیع تھے۔ 24 مارچ 1984 کو غزہ شہر میں پیدا ہونے والے سلیمان احمد زاید العبید کو کون جانتا تھا کہ ایک دن وہ فلسطینی فٹبال کی تاریخ میں امر ہو جائیں گے اور دنیا انہیں محبت سے ’پیلے فلسطین‘ کہے گی۔
غربت، محاصرہ اور جنگی دھماکوں کے بیچ کھیلنا آسان نہیں تھا، مگر سلیمان کے پاؤں میں وہ جادو تھا جو ہر رکاوٹ کو شکست دیتا تھا۔ اپنے کلب کیریئر کا آغاز ’خدمات الشاطی‘ سے کیا، پھر ’مرکز شباب الامعری‘ اور ’غزہ اسپورٹ‘ کے لیے کھیلے۔ کھیل کا انداز ایسا تھا کہ لوگ انہیں ہرن، بلیک پرل، فلسطین کا ہنری اور سب سے بڑھ کر ’پیلے فلسطین‘ کہنے لگے۔
Former footballer Suleiman Al-Obeid, who played for the Palestinian national team was shot dead by Israeli occupation froces whilst he was waiting for humanitarian aid in Gaza.
The 41 year-old footballer was nicknamed the “Palestinian Pelé,” scored over 100 goals in his career. pic.twitter.com/l7cdW1wGUB
— • (@Alhamdhulillaah) August 9, 2025
2007 میں فلسطینی قومی ٹیم میں جگہ پانے والے سلیمان کے لیے یہ صرف کھیل نہیں، وطن کی عزت کا سوال تھا۔ 24 بین الاقوامی میچز میں 2 گول کیے، لیکن سب سے یادگار لمحہ 2010 ویسٹ ایشین چیمپیئن شپ میں یمن کے خلاف ان کا شاندار ’سکیسر کک‘ رہا۔ کلب کی سطح پر 100 سے زائد گولز کے ساتھ وہ 16-2015 اور 17-2016 کےGaza Strip Premier League کے ٹاپ اسکورر بھی بنے۔
6 اگست 2025 کا دن غزہ کے لیے ایک اور زخم بن گیا۔ جنوبی غزہ میں امداد کے منتظر لوگوں کی قطار میں سلیمان بھی کھڑے تھے، اپنے اہلِ خانہ کے لیے کھانے کا سامان لینے۔ بے رحم اور سفاک دشمن نے ایک لمحے میں ان کی زندگی کا چراغ بجھا دیا۔ 41 سالہ سلیمان اپنی اہلیہ اور 5 ننھے بچوں کو چھوڑ گئے۔
یوئیفا (Union of European Football Associations) نے انہیں تاریک دنوں میں بھی امید کا چراغ کہا مگر ان کی موت کے پس منظر کا ذکر نہیں کیا گیا۔ لیور پول اسٹار محمد صلاح نے سوال اٹھایا کہ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ وہ کیسے، کہاں اور کیوں شہید ہوئے؟
Can you tell us how he died, where, and why? https://t.co/W7HCyVVtBE
— Mohamed Salah (@MoSalah) August 9, 2025
فلسطین فٹبال ایوسی ایشن کے مطابق 7 اکتوبر 2023 سے اب تک کھیلوں سے وابستہ کم از کم 662 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 421 فٹبال سے جڑے لوگ شامل ہیں، یہ صرف ایک کھیل کا نقصان نہیں، بلکہ ایک ثقافتی اور انسانی المیہ ہے۔
سلیمان العبید صرف ایک فٹبالر نہیں تھے؛ وہ ایک علامت تھے، اس فلسطینی روح کی علامت جو بربادی کے سائے میں بھی دوڑتی ہے، گول کرتی ہے اور خواب دیکھتی ہے۔ ان کے پاؤں کی جنبش، گیند پر گرفت، اور گول کے بعد آسمان کی طرف اٹھتے ہاتھ آج بھی غزہ کے بچوں کے دلوں میں امید جگاتے ہیں۔
فلسطینی پیلے کی ناگہانی موت دنیا کے سامنے مجسم سوال ہے کہ جنگ کب تک کھیل، محبت اور امن کی سرحدوں کو روندتی رہے گی؟ سلیمان العبید ہمارے درمیان نہیں، مگر ان کا نام، ان کی یاد، اور ان کا کھیل ہمیشہ زندہ رہے گا۔
غزہ کی گلیوں میں آج بھی کوئی لڑکا فٹبال کو ٹھوکر مارتے ہوئے اپنے آپ سے کہتا ہے ’میں بھی سلیمان العبید بنوں گا ۔ ۔ ۔ اور شاید، میں وہ گول کروں جو آزادی کا ہو۔‘
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سلیمان احمد زاید العبید فٹبال فٹبالر فلسطین فلسطینی پیلے کے لیے
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔