ٹرمپ کا غیر قانونی تارکین وطن کے بغیر نئی مردم شماری کرانے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حکام کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک نئی مردم شماری کی تیاری کریں جس میں ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو شامل نہ کیا جائے۔
ان کا یہ اقدام 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن ریاستوں کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ، "جو لوگ ہمارے ملک میں غیر قانونی طور پر ہیں، انہیں مردم شماری میں شمار نہیں کیا جائے گا۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ نئی مردم شماری "جدید حقائق اور اعداد و شمار" پر مبنی ہونی چاہیے، جو 2024 کے انتخابات سے حاصل کیے جائیں۔
آئینِ امریکہ کے مطابق ہر دس سال بعد مکمل مردم شماری کی جاتی ہے، جس میں تمام افراد کو شمار کیا جاتا ہے، چاہے ان کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔ اگلی مردم شماری 2030 میں متوقع ہے، اور اس کی تیاریاں پہلے ہی شروع ہو چکی ہیں۔
ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ 2030 کی مردم شماری کی بات کر رہے ہیں یا اس سے پہلے کوئی خصوصی مردم شماری کرانا چاہتے ہیں۔
مردم شماری کی بنیاد پر کانگریس میں ریاستوں کی نمائندگی کا تعین کیا جاتا ہے اور ساتھ ہی صدارتی انتخابات کے لیے الیکٹورل ووٹس اور اربوں ڈالرز کی وفاقی فنڈنگ بھی تقسیم کی جاتی ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل اپنے پہلے دورِ صدارت میں بھی مردم شماری میں شہریت سے متعلق سوال شامل کروانے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن سپریم کورٹ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مردم شماری کی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز