فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے کاروباری افراد کے لیے سخت قوانین تیار کر لیے  جب کہ سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد کے لیے ایف بی آر کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق بزنس پوائنٹ کی نگرانی کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیئے جائیں گے، ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ مشین، کیو آرکوڈ، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو ایف بی آر سے لنک کرنا ہوگا، اشیا کی آن لائن فروخت کے لیے ویب سائٹ، سافٹ ویئر، موبائل ایپلی کیشن بھی لنک ہوگی۔

انٹیگریٹڈ شخص ٹیکس افسر کو کاروباری احاطے، ریکارڈ تک رسائی دینے کا پابند ہوگا، الیکٹرانک سسٹم سے چھیر چھاڑ کرنے والے کو جرمانہ اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انٹرنیٹ یا بجلی کی بندش کی صورت میں انوائسز24 گھنٹے کے اندر اپ لوڈ کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

ایف بی آر دستاویز کے مطابق ٹیکس چوری کی روک تھام کیلئے انفورسمینٹ نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، کیو آر کوڈ یا ایف بی آر نمبر کے بغیر انوائسز جاری کرنے پر قانونی کاروائی کی جائے گی۔

سیلز ٹیکس انوائس ڈیجیٹل دستخط، کیو آر کوڈ، ایف بی آر کے منفرد  نمبر پر مشتمل ہوگی 
یومیہ، ہفتہ وار اور ہر مہینے کے آخر میں الیکٹرانک انوائسز کا ریکارڈ مرتب کرنا ہوگا۔

ڈیجیٹل انوائسز یا آن لائن فروخت کی انوائسز کا ڈیٹا چھ سال تک محفوظ رکھنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایف بی ا ر

پڑھیں:

بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن