ملک میں آبی ذخائر مکمل بھرنے کے قریب، پانی کی دستیابی میں واضح بہتری
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
ملک بھر میں آبی ذخائر پانچ ماہ کے دوران نچلی ترین سطح سے بلند ہو کر تقریباً مکمل بھر چکے ہیں، جس سے زرعی اور گھریلو ضروریات کے لیے پانی کی فراہمی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
واپڈا کے ترجمان کے مطابق اس وقت قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ ایک کروڑ 3 لاکھ 45 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے، جو مجموعی گنجائش کا تقریباً 80 فیصد ہے۔ یاد رہے کہ مارچ میں یہ ذخائر صفر تک گر گئے تھے اور بڑے ڈیمز ڈیڈ لیول تک پہنچ چکے تھے۔
تربیلا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش اب صرف 4 فٹ باقی رہ گئی ہے، موجودہ سطح 1546 فٹ ہے اور اس میں 54 لاکھ 98 ہزار ایکڑ فٹ پانی موجود ہے۔
منگلا ڈیم کی موجودہ سطح 1205 فٹ ہے، جہاں مزید 37 فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے، جبکہ موجودہ ذخیرہ 45 لاکھ 93 ہزار ایکڑ فٹ تک پہنچ چکا ہے۔
چشمہ بیراج میں پانی کی سطح 648 فٹ پر ہے، جہاں صرف ایک فٹ کی گنجائش باقی ہے اور اس وقت 2 لاکھ 58 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہے۔
یہ بہتری مون سون بارشوں اور برف پگھلنے کے نتیجے میں ممکن ہوئی ہے، جس سے ملک میں پانی کی دستیابی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہزار ایکڑ فٹ پانی کی
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔