ملک میں بسنے والا ہر شہری خواہ کسی بھی مذہب سے ہو، برابر کا پاکستانی ہے، وزیر داخلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ ملک میں بسنے والا ہر شہری خواہ کسی بھی مذہب سے ہو، برابر کا پاکستانی ہے۔
اپنے پیغام میں محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان دین اسلام کے سنہری اصولوں عدل، مساوات اور رواداری پر قائم ہوا اور انہی بنیادوں پر ہمیشہ قائم رہے گا۔ پاکستان اقلیتوں کے جان و مال، عقیدے اور عبادت کی آزادی کو آئینی ذمہ داری ہی نہیں، ریاستی پہچان سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دین اسلام جبر کی ممانعت، عقیدے کی آزادی اور انسانیت کا احترام درس دیتا ہے اور یہی تعلیمات اقلیتوں کے تحفظ کی بنیاد ہیں۔ قائداعظم نے 11 اگست 1947 کے خطاب میں واضح کیا کہ پاکستان کا ہر فرد مساوی حیثیت رکھتا ہے، آئینِ پاکستان اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کی تمام اقلیتیں عزت، مساوات اور شراکت کے ساتھ قومی ترقی میں شریک اور قابل فخر ساتھی ہیں۔ اقلیتوں نے تعلیم، صحت، دفاع اور سیاست سمیت ہر شعبے میں مثالی خدمات انجام دی ہیں جو قابل تحسین ہے۔ اقلیتوں کا کردار پاکستان کے قومی ورثے کا درخشاں باب ہے۔
انہوں نے کہا کہ حب الوطنی، خدمت اور کردار ہی قومی شناخت کے معیار ہیں، پاکستان اور پاکستانی امتیاز کے قائل نہیں۔ ریاست ہمیشہ اقلیتوں کے جان و مال اور مقدس مقامات کی حفاظت کو اولین ترجیح دیتی ہے، عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش ہو یا تقریبات کی سیکیورٹی، ریاست اپنی ہمیشہ ذمہ داری نبھاتی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ جنگی حالات میں بھی کرتارپور راہداری اور ننکانہ صاحب کو کھلا اور محفوظ رکھنا، پاکستان کے امن، محبت اور بین المذاہب ہم آہنگی کا عملی ثبوت ہے۔ پاکستان اقلیتوں کو ان کا پورا حق دیتا ہے کیونکہ وہ ریاست کے برابر کے وارث ہیں۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ہماری پالیسی، نیت اور عمل ایک ہیں، اقلیتوں کے تحفظ، آزادی اور شراکت داری پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا۔ اقلیتوں کے قومی دن پر بحیثیت قوم اقلیتوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کےعزم کا اعادہ کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اقلیتوں کے محسن نقوی نے کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز