وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو فورسز کیخلاف اشتعال انگیزی پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
اپنے بیان میں وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کے بہادر سپوتوں کے بارے میں بے بنیاد اور حقائق سے منافی بیان ناقابل برداشت ہے، وطن کے امن کے لئے جانیں نچھاور کرنے والے جری افسروں اور جوانوں کے بارے میں ایسا بیان کوئی محب وطن نہیں دے سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیان کی پرزور مذمت کی ہے۔ اپنے بیان میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے بہادر سپوتوں کے بارے میں بے بنیاد اور حقائق سے منافی بیان ناقابل برداشت ہے، وطن کے امن کے لئے جانیں نچھاور کرنے والے جری افسروں اور جوانوں کے بارے میں ایسا بیان کوئی محب وطن نہیں دے سکتا۔ محسن نقوی نے کہا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے ہرزہ سرائی کرکے ازلی دشمن کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے، فورسز کی لازوال قربانیوں کی پوری دنیا اور قوم معترف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کے افسروں اور جوانوں نے قیمتی جانیں قربان کرکے امن کی آبیاری کی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اُس صوبے کے وزیراعلیٰ نے احسان فراموشی کی حدیں پار کی ہیں، جہاں سکیورٹی فورسز کے جوان سب سے زیادہ شہید ہوئے، کوئی بھی محب وطن ایسا بیان دینے کے بارے سوچ بھی نہیں سکتا، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو سکیورٹی فورسز کے خلاف اشتعال انگیزی پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا کے بارے میں وزیر داخلہ نے کہا کہ
پڑھیں:
بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔