اسلام ٹآئمز: حسینی ہوم کے زیراہتمام منعقدہ اس روح پرور محفل سے تحریک حسینی کے سرپرست اعلیٰ علامہ سید عابد الحسینی، انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی ضامن حسین اور ڈپٹی سیکرٹری علامہ سید تجمل الحسینی، تحریک حسینی کے وائس پریزڈنٹ استاد نبی الحسینی، سابق سیکریٹری انجمن حسینیہ عنایت علی طوری، ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء علامہ سید مفید حسین میاں، ادارہ تبلیغات کے رہنماء علامہ ایران علی اور سید جاوید حسین کے علاوہ اس فاضل ادارے کے چیئرمین افتخار حسین افتی نے خطاب کیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: ایس این حسینی

آج اتوار 10 اگست کو حسینی ہوم بساتو (حسینی یتیم خانہ) میں ایتام کی کفالت اور ادارے کی نئی عمارت ایک پروقار اور روحانی محفل کا انعقاد ہوا۔ جس میں تحریک حسینی کے سپریم لیڈر اور سابق سینیٹر علامہ سید عابد حسینی، صدر تحریک حسینی و اراکین، سیکریٹری و ڈپٹی سیکریٹری انجمن حسینیہ اور اراکین انجمن، ایم ڈبلیو ایم کے رہنماؤں اور اراکین، حیدری اور چنار بلڈ بینک کے نمائندوں، دسترخوان امام حسنؑ، آئی ایس او اور آئی او کے علاوہ دیگر علاقائی مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور رہنماؤں نے بھرپور شرکت کی۔ حسینی ہوم کے زیراہتمام منعقدہ اس روحانی محفل سے تحریک حسینی کے سرپرست اعلیٰ علامہ سید عابد الحسینی، انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی ضامن حسین اور ڈپٹی سیکرٹری علامہ سید تجمل الحسینی، تحریک حسینی کے وائس پریزڈنٹ استاد سید نبی الحسینی، سابق سیکریٹری انجمن حسینیہ عنایت علی طوری، ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء علامہ سید مفید حسین میاں، ادارہ تبلیغات کے رہنما علامہ ایران علی، سید جاوید حسین کے علاوہ اس فاضل ادارے کے چیئرمین افتخار حسین افتی نے خطاب کیا۔
 
مقررین نے مخیر، متمول خصوصاً بیرونی ممالک میں مقیم افراد سے گزارش کی کہ اس ادارے کے لئے اپنی بساط اور حیثیت کے مطابق کمک کریں۔ علامہ سید عابد الحسینی نے کہا کہ بہت افسوس کی بات ہے کہ اس علاقے پر اپنی قیمتی جاں نچاور کرنے والوں کے بچوں کی کفالت کیلئے سوال اور التجائیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی کے کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں اپنی آخرت سنوارنے کیلئے اس پراجیکٹ میں بھرپور تعاون کرنا چاہیئے۔ علامہ سید عابد الحسینی نے اس پراجیکٹ کیلئے اپنی طرف سے ایک لاکھ روپے چندہ کا اعلان کیا۔ انہوں نے تحریک حسینی کو بھی سفارش کی کہ ایتام کو فی نفر ایک رضائی دی جائے۔

اس موقع پر محفل میں موجود افراد کے علاوہ باہر سے بھی متعدد افراد نے چندہ پیش کیا۔ مجمع میں موجود افراد میں رقت انگیز مناظر اس وقت دیکھنے میں آئے، جب ایک نہایت نادار شہید کی بیوہ کی جانب سے 10 اینٹوں کی کمک کا اعلان ہوا۔ مجمع میں موجود اکثر آنکھیں پرنم ہوئیں۔ اس کے علاوہ مجمع میں موجود افراد میں ہمدردی اور یتیم پروری کا جذبہ اس وقت اپنے عروج کا پہنچا، جب ابراہیم زئی لوئر کرم کی دو چھوٹی بچیوں بی بی فاطمہ اور تحریم نرگس نے مہینوں کی جمع پونجی پر مشتمل گلک (سیونگ باکس) پیش کیے۔ خیال رہے کہ ایتام کے لئے الگ سے بننے والے منصوبے پر فی فٹ 5000 روپے خرچے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ چنانچہ منتظمین نے مخیر حضرات سے اپیل کی کہ دار الایتام میں ایک فٹ کا خرچہ برداشت کرتے ہوئے اپنے والدین اور مرحومین کو ہدیہ کریں۔ پروگرام کے آخر میں منتظمین نے علامہ سید عابد حسینی کو لے جاکر منصوبے کی سنگ بنیاد رکھوائی۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ سید عابد الحسینی تحریک حسینی کے انجمن حسینیہ حسینی ہوم کے علاوہ

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت