Islam Times:
2026-06-03@08:40:34 GMT

جب بلتستان ایک پرچم تلے جمع ہوا

اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT

جب بلتستان ایک پرچم تلے جمع ہوا

اسلام ٹائمز: یہ اجتماع صرف ایک برسی کی رسم نہیں بلکہ ملتِ تشیع بلتستان کے لیے امید، عزم اور بیداری کا پیغام بن کر ختم ہوا۔ مرکزی جامع مسجد سکردو سے گونجتی تکبیر کی صدائیں، حاضرین کے دلوں میں اتحاد کی حرارت اور قائدین کی بصیرت افروز باتیں اس دن کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کر گئیں۔ یہ وہ لمحہ تھا، جب بلتستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ اختلافات کے باوجود ایک پرچم تلے اکٹھا ہو کر ملت کی بقاء اور شہیدِ قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کے مشن کو آگے بڑھانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔ تحریر: آغا زمانی

سکردو کی فضاؤں میں اس دن ایک الگ ہی سکون اور سنجیدگی تھی۔ موسم کی خنکی میں کہیں دور سے آتی ہوا مرکزی جامع مسجد کے بلند مینار سے ٹکرا کر جیسے ملت کے دلوں میں اتحاد کی صدا جگا رہی تھی۔ یہ 15 صفر المظفر 1447ھ  اور 10 اگست 2025ء کا دن تھا۔ قائدِ محبوب، شہیدِ مظلوم علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کی 37ویں برسی کا دن۔ جامع مسجد کے صحن میں لوگوں کا ہجوم بڑھتا جا رہا تھا۔ سفید عمامے، سیاہ دستاریں، ہاتھوں میں تسبیح اور چہروں پر سنجیدگی کا سایہ۔ یہ سب اس بات کا ثبوت تھے کہ یہاں صرف ایک یاد تازہ کرنے کے لیے نہیں بلکہ ایک عہد دہرانے کے لیے جمع ہوا گیا ہے۔ یہ اجتماع ایک منفرد منظر پیش کر رہا تھا۔ امامیہ آرگنائزیشن بلتستان ریجن، مجلس وحدت المسلمین، اسلامی تحریک، آئی ایس او، تحریک بیداری امت مصطفیٰ اور جے ایس او۔ سب ایک پلیٹ فارم پر جمع تھے۔

یہ تقریب اتحاد بین المومنین کا جیتا جاگتا نمونہ تھا۔ اس کا سہرا امامیہ آرگنائزیشن پاکستان بلتستان ریجن کے ذمہ داروں کو جاتا ہے، کیونکہ ہر سال قائدِ شہید کی برسی کا پروگرام آئی او تنہاء کرتی تھی، اس سال آئی او بلتستان ریجن کے مسئولین نے احساس کیا کہ شہید قائد کی برسی کے اجتماع کو اجتماعی انداز میں منعقد کیا جائے۔ انہوں نے باقی متحرک اور فعال مذہبی تنظیموں سے رابطے بڑھائے، الحمدللہ تمام تنظیموں کے مسئولین نے بھی ذمہ داری کو خلوص سے محسوس کیا اور سب تنظیموں کی کوششوں سے اس بار شہید قائد کی برسی پر مشترکہ ملی اتحاد کی خوبصورت تصویر نظر آئی۔ اجتماع میں بزرگ عالم و داعی وحدت علامہ شیخ محمد حسن جعفری حفظہ اللہ بھی شریک ہوئے۔

جب تقریر کا سلسلہ شروع ہوا تو سامعین کی نظریں منبر کی طرف جم گئیں۔ بلتستان ریجن کے مسئول اصغر علی جوادی کی پرجوش آواز نے آغاز کیا۔ پھر قائد گلگت بلتستان علامہ شیخ غلام محمد الغروی رحمۃ اللہ علیہ کے بڑے فرزند اور کراچی کی جامع مسجد نورِ ایمان کے امام جمعہ علامہ مرزا یوسف حسین نے حاضرین کے دلوں کو گرما دیا۔ معروف مذہبی اسکالر علامہ شیخ ڈاکٹر یعقوب بشوی کی مدلل گفتگو اور صدر انجمن امامیہ بلتستان، نائب امام جمعہ و جماعت مرکزی جامع مسجد سکردو علامہ سید باقر الحسینی کے الفاظ میں ایک درد بھی تھا اور پیغام بھی۔ گلگت سے تشریف لائے ہوئے امام جمعہ علامہ سید راحت الحسینی کی آواز میں بھی ملت کے زخموں کا کرب جھلک رہا تھا۔ تقریب کی نظامت برادر قاسم کے ذمہ تھی، جو ایک ایک مقرر کو احترام اور وقار کے ساتھ دعوتِ خطاب دے رہے تھے۔

علامہ سید باقر الحسینی نے جب مائیک سنبھالا تو مسجد کے اندر ایک گہری خاموشی چھا گئی۔ ان کی آواز میں ایک درد بھرا سوال تھا: "قائد سید شہید علامہ عارف الحسینی کی شہادت کو آج 37 برس گزر گئے، مگر ملت اس کے بعد دوبارہ متحد نہ ہو پائی۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کس سمت نکل چکے ہیں۔ پوری ملت کو ایک بیانیہ پر متفق ہونا ہوگا۔" وہ لمحہ اور بھی سنجیدہ ہوگیا، جب انہوں نے کہا: "ہم نے پاکستان کی سالمیت کے لیے اتحاد بین المسلمین کا راستہ اپنایا، لیکن ہمارے اخلاص کو ہماری مجبوری نہ سمجھا جائے۔۔ ورنہ گلی گلی سے مختار نکل آئیں گے۔" ان کا لہجہ ایک طرف اتحاد کا درس دے رہا تھا تو دوسری طرف ظلم کے خلاف ایک خاموش اعلانِ جنگ بھی تھا۔ انہوں نے ملت کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "ہم نے پاکستان میں بیس ہزار شہداء دیئے ہیں۔ 1994ء کے انتخابات میں گلگت بلتستان کی تاریخ ساز کامیابی کے بعد ملت کو ٹکڑوں میں بانٹ دیا گیا، مگر ہم نے ہمت نہیں ہاری۔"

جامع مسجد میں سجائے گئے اسٹیج کے ڈائس پر موجود علامہ سید راحت الحسینی کی نگاہیں حاضرین پر جمیں تھیں اور ان کے الفاظ گویا دل کے نہاں خانوں کو جھنجھوڑ رہے تھے۔ ان کی آواز میں وہی وقار اور ٹھہراؤ تھا، جو ایک بزرگ قائد کی پہچان ہوتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ لہجے میں ملت کے لیے فکر کی آگ بھی دہک رہی تھی۔ "وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہی تھی کہ ملت ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو۔۔ اور آج الحمدللہ اہلیانِ بلتستان نے یہ کر دکھایا ہے۔" یہ جملہ گونجتے ہی مجمع میں ہلکی سی جنبش ہوئی۔ لوگ ایک دوسرے کی طرف فخر سے دیکھنے لگے، جیسے اس اجتماع میں شریک ہونا خود ایک کارنامہ ہو۔ علامہ سید راحت الحسینی نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "قائد محبوب، شہیدِ مظلوم علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کی برسی کا یہ عظیم الشان اجتماع، ملتِ تشیع بلتستان کے نام پر، ایک تاریخی قدم ہے۔ آپ سب لائقِ تحسین ہیں۔ مگر یاد رکھیں۔۔ اس اتفاق کو برقرار رکھنا اصل امتحان ہے۔"

پھر ان کی آواز میں محبت اور اعتراف کا ایک رنگ گھل گیا: "مردِ مجاہد آغا علی رضوی اور آغا باقر الحسینی، خدا کی خاص نعمت ہیں۔ اے مومنو۔۔ ان کا ساتھ دو۔" وہ لمحہ اور زیادہ سنجیدہ ہوگیا، جب علامہ نے ماضی کا ایک زخم چھیڑ دیا: "گلگت بلتستان میں ایک ابنِ زیاد کی حکومت تھی۔۔ وہ حکومت جس کا بیان آج بھی دل کو تڑپا دیتا ہے۔۔۔۔ کہ شیعوں کو میں نے سو سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔" مجلس کے کچھ چہروں پر غصے اور بے بسی کے آثار ابھر آئے۔ علامہ نے ان کے جذبات کو پڑھ لیا اور کہا: "اسمبلی میں نڈر، غیرت مند نمائندے منتخب کریں۔ بلتستان میں ایسے جوانوں کو آگے لائیں، جو جرات اور بصیرت رکھتے ہوں۔ یاد رکھیں۔۔ جس حکومت کو عوام منتخب نہ کریں، وہ عوام کے تحفظات کی حفاظت نہیں کر سکتی۔"

پھر انہوں نے ایک ایسی تلخ حقیقت بیان کی، جو سب کے دل پر چوٹ کر گئی: "وفاق اور گلگت بلتستان میں اداروں کی حکومت ہے، عوامی حکومت نہیں۔ جب کسی ادارے نے حکومت بنائی ہو تو اسے عوام سے کیا لینا دینا۔؟ پولیس اور بعض اداروں میں کچھ ایسے بھی ہیں، جو محض دو ہزار روپے کے عوض ملت کے راز بیچ دیتے ہیں۔ آغا باقر کی ویڈیو اور آغا ضیاءالدین کے خلاف رپورٹ۔۔ انہی غداروں کی کارستانی ہے۔" ان کے آخری جملے نے ہال میں ایک خاموش عزم کی لہر دوڑا دی۔ یہ محض ایک تقریر نہیں تھی، یہ ایک نسخۂ شفا تھا۔۔ زخموں سے چور ملت کے لیے اور آنے والے کل کے لیے ایک نقشۂ راہ۔

یوں یہ اجتماع صرف ایک برسی کی رسم نہیں بلکہ ملتِ تشیع بلتستان کے لیے امید، عزم اور بیداری کا پیغام بن کر ختم ہوا۔ مرکزی جامع مسجد سکردو سے گونجتی تکبیر کی صدائیں، حاضرین کے دلوں میں اتحاد کی حرارت اور قائدین کی بصیرت افروز باتیں اس دن کو تاریخ کے اوراق میں سنہری حروف سے رقم کر گئیں۔ یہ وہ لمحہ تھا، جب بلتستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ اختلافات کے باوجود ایک پرچم تلے اکٹھا ہو کر ملت کی بقاء اور شہیدِ قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی کے مشن کو آگے بڑھانا ہی حقیقی کامیابی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ سید عارف حسین الحسینی بلتستان ریجن گلگت بلتستان کی آواز میں انہوں نے اتحاد کی وہ لمحہ کی برسی میں ایک کے دلوں رہا تھا کے لیے ملت کے

پڑھیں:

گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی

گلگت:

گلگت بلتستان اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹرز کا کردار انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں متعدد حلقوں میں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد میں معمولی فرق انتخابی نتائج پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 54 ہزار 480 ہے، جبکہ کم از کم پانچ حلقوں میں خواتین ووٹرز جیت اور ہار کا فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

دیامر-1 سب سے منفرد حلقہ قرار دیا جا رہا ہے جہاں مرد اور خواتین ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہے۔ اس حلقے میں مرد ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 269 جبکہ خواتین ووٹرز کی تعداد 22 ہزار 257 ہے، یعنی دونوں کے درمیان صرف 12 ووٹوں کا فرق موجود ہے۔

مزید پڑھیں

گلگت بلتستان عام انتخابات؛ پنجاب پولیس کے 5ہزار اہلکار سیکیورٹی ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دیں گے

گلگت بلتستان انتخابات، کیا نواز شریف فعال سیاست میں واپس آ رہے ہیں؟

دوسری جانب گلگت-2 میں مرد اور خواتین ووٹرز کے درمیان سب سے زیادہ فرق ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں مرد ووٹرز کی تعداد خواتین کے مقابلے میں 3 ہزار 829 زیادہ ہے۔ اس حلقے میں رجسٹرڈ خواتین ووٹرز کی تعداد 26 ہزار 10 ہے۔

انتخابی ماہرین کے مطابق گلگت-2، ہنزہ، غذر-2، گلگت-3 اور اسکردو-2 ایسے حلقے ہیں جہاں خواتین ووٹرز نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈال سکتی ہیں۔ ہنزہ میں خواتین ووٹرز کی تعداد 25 ہزار 588، غذر-2 میں 24 ہزار 945، گلگت-3 میں 24 ہزار 810 اور اسکردو-2 میں 24 ہزار 346 ہے۔

ادھر انتخابات میں خواتین کی سیاسی شرکت بھی نمایاں ہے اور 8 خواتین امیدوار مختلف حلقوں سے قسمت آزما رہی ہیں، جس سے انتخابی عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی نمائندگی کی عکاسی ہوتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان میں خواتین ووٹرز کا وزن بڑھ گیا، متعدد حلقوں میں نتائج پر اثر انداز ہوں گی
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف