نئی دہلی میں پاکستانی سفارتکاروں کو ہراساں کیا جانے لگا، گھر چھوڑنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
بھارت ایک بار پھر سفارتی آداب بھول گیا، نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور انہیں مدت ختم ہونے سے قبل گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ذرائع کے مطابق پاکستانی سفارت کاروں کی مسلسل نگرانی ہوری ہے، ان کے گھر کی انٹرنیٹ کی سہولیات وقتأ فوقتأ روکی جارہی ہیں، پاکستانی سفارت کار جن گھروں میں رہ رہے ہیں، ان گھروں کو خالی کرنے کا حکم جاری کردیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گھر خالی کرنے کا حکم کنٹریکٹ کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی جاری کردیا گیا، چار سے پانچ پاکستانی سفارت کاروں کو اب تک گھر چھوڑنے کا حکم دیا جاچکا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی سفارت کرنے کا کا حکم
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔