14 اگست کے موقع پر سندھ بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ خوشی کے موقع پر شہری فائرنگ سے گریز کریں، 2 دن کیلئے دفعہ 144 بھی نافذ کی جائے گی تاکہ خوشیوں کو منایا جا سکے، سندھ حکومت یوم آزادی کو بھرپور طریقے سے منا رہی ہے، مختلف شہروں میں سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات جاری ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ 14 اگست کے موقع پر سندھ بھر میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ آزادی خوشی کا موقع ہے اس موقع پر فائرنگ کرنا غلط عمل ہے۔ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ خوشی کے موقع پر شہری فائرنگ سے گریز کریں، 2 دن کیلئے دفعہ 144 بھی نافذ کی جائے گی تاکہ خوشیوں کو منایا جا سکے۔ ضیاء لنجار نے مزید کہا کہ سندھ حکومت یوم آزادی کو بھرپور طریقے سے منا رہی ہے، مختلف شہروں میں سرکاری اور غیر سرکاری تقریبات جاری ہیں۔ دوسری جانب کراچی پولیس کی جانب سے ہوائی فائرنگ کے حوالے سے آگاہی پیغام جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ 14 اگست کے موقع پر ہوائی فائرنگ سے اجتناب کیا جائے، ہوائی فائرنگ پر اقدام قتل کے تحت کارروائی کی جائے گی، اپنی خوشیوں کو غم میں تبدیل نہ کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے موقع پر کہا کہ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔