پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کی تشریح پر ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
پاکستان کا سندھ طاس معاہدے کی تشریح پر ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم WhatsAppFacebookTwitter 0 11 August, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی عمومی تشریح سے متعلق ثالثی عدالت کے حالیہ فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں بھارت کو مغربی دریاوں کا پانی پاکستان کے استعمال کے لیے چھوڑنے اور زیادہ پانی ذخیرہ نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق یہ فیصلہ 8 اگست کو سنایا گیا اور آج ثالثی عدالت کی ویب سائٹ پر جاری کیا گیا ہے جبکہ فیصلے میں مغربی دریاوں پر بھارتی پن بجلی منصوبوں کے لیے مقررہ ڈیزائن معیار کی توثیق کی گئی۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس کی پیداوار معاہدے کے تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔ترجمان نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ پاکستان کے تاریخی مقف کی تائید ہے اور یہ دونوں فریقین پر لازم ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سندھ طاس معاہدے پر مکمل عملدرآمد کے لیے پرعزم ہے اور توقع ہے کہ بھارت فوری طور پر اس پر دوبارہ عمل شروع کرے گا اور فیصلے کو اس کی روح کے مطابق نافذ کرے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمریم نواز وزیراعلیٰ بعد میں ہے پہلے میری بیٹی ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف کی استعفیٰ دینے کی خبروں کی تردید مریم نواز وزیراعلیٰ بعد میں ہے پہلے میری بیٹی ہیں، وزیر دفاع خواجہ آصف کی استعفیٰ دینے کی خبروں کی تردید نوازشریف کے زیر صدارت مسلم لیگ ن کا اجلاس، ضمنی انتخابات پر تبادلہ خیال سی ڈی اے کے زیر اہتمام پیڈل ٹینس مقابلہ ،چیئرمین سی ڈی اے کا صحت مند سرگرمیوں کے فروغ پر زور ڈریپ ، کوالٹی کنٹرول ڈائریکٹوریٹ کا بڑا ایکشن ، جعلی کمپنیوں کی ادویات بھی جعلی نکلیں ، کمپنیوں کے نام اور ادویات کی تفصیلات... پاکستان نے فیلڈ مارشل سے متعلق بھارتی وزیر خارجہ کا بیان مسترد کردیا آسٹریلیا کا بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے کا اعلان
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سندھ طاس معاہدے ثالثی عدالت
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز