بھارت پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے لگا، برداشت نہیں کرینگے، دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
اطلاعات کے مطابق ہائی کمیشن کے افسران سے زبردستی رہائشی گھر بھی خالی کروائے جارہے ہیں اور انہیں پانی اور اخبارات کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے، پاکستان نے ان اقدامات کو ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاملہ بھارتی حکومت کے ساتھ باضابطہ طور پر اٹھا لیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت ایک بار پھر سفارتی آداب بھول گیا، نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ جبکہ ہائی کمیشن کے افسران سے زبردستی رہائشی گھر بھی خالی کروائے جارہے ہیں، انہیں پانی اور اخبارات کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے، نئی دہلی میں تعینات پاکستانی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی سفارت کاروں اور فیملیز کے ویزوں کے اجرا میں مسلسل تاخیر کی جارہی ہے، بعض کیسز میں 17 ویزوں پر 4 سے 5 ماہ کی تاخیر ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق ہائی کمیشن کے افسران سے زبردستی رہائشی گھر بھی خالی کروائے جارہے ہیں اور انہیں پانی اور اخبارات کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے، پاکستان نے ان اقدامات کو ویانا کنونشن کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے معاملہ بھارتی حکومت کے ساتھ باضابطہ طور پر اٹھا لیا ہے۔ دوسری جانب دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ سفارتی آداب اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پاکستانی سفارت کاروں
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک