بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا؛ بلاول بھٹو
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک : پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ مودی کو پاکستان کی زندگی کی علامت دریائے سندھ پر حملہ کرنے نہیں دیں گے، عوام میں اتنی طاقت ہے کہ بھارت سے اپنے تمام 6 دریا واپس چھین سکیں۔
ان خیالات کا اظہار بلاول بھٹو نے بھٹ شاہ میں شاہ عبدالطیف بھٹائی کے عرس کے اختتامی سیشن سے خطاب کے دوران کیا، کہا کہ ہم سب بھٹائی کے ماننے والے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ جنگ ہم نے شروع نہیں کی مگر مکمل ہم نے کی، جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست دی، جنگ شروع ہوئی تو دریائے سندھ کے کنارے پر کھڑے ہو کر کہا تھا کہ مودی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کروں گا۔
وفاقی حکومت کا14اگست کوعام تعطیل کااعلان
بلاول بھٹو نے کہا کہ بھارت یک طرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل نہیں کرسکتا، سندھو دریا پر حملے کے خلاف دنیا بھر میں آواز اٹھائی، مودی کے پانی روکنے کی دھمکی کو پوری دنیا میں اٹھایا ہے، مودی کے جھوٹ کو پوری دنیا میں میں بے نقاب کردیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پر بھارت نے رات کے اندھیرے پر حملہ کیا،جنگ چھیڑی، پاکستان نے جنگ شروع نہیں کی لیکن ختم پاکستان نے کی، پاک افواج نے دشمن کو تاریخی جواب دیا، بھارت نے عبرت ناک شکست کے بعد پاکستان کے پانی پر حملہ کیا، دریائے سندھ کا پانی سندھ سمیت پورا پاکستان پیتا ہے۔
بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
— فائل فوٹوسندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔
عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔
عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔
کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔
کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...
جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔