بھارت: نئی ووٹر لسٹوں پر ہنگامہ کیوں ہے برپا؟
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
بھارتی ریاست بہار میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئی ووٹر لسٹ شدید تنازع کا شکار ہو گئی ہے۔
اپوزیشن جماعتوں اور انتخابی شفافیت کے حامی اداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ لسٹ میں بڑے پیمانے پر غلطیاں موجود ہیں اور اس عمل سے لاکھوں اہل ووٹرز، بالخصوص مسلم اکثریتی اضلاع کے رہائشی، ووٹ کے حق سے محروم ہو سکتے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق اسپیشل انٹینسو ریویژن (SIR) 25 جون سے 26 جولائی تک جاری رہا جس میں ریاست کے 7 کروڑ 89 لاکھ ووٹرز کی تصدیق کی گئی۔ نئی ڈرافٹ لسٹ میں ووٹرز کی تعداد کم ہو کر 7 کروڑ 24 لاکھ رہ گئی — یعنی 65 لاکھ نام حذف کر دیے گئے۔ اس میں 22 لاکھ مردہ افراد، 7 لاکھ دہرا اندراج اور 36 لاکھ ریاست سے نقل مکانی کرنے والے شامل ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’بی بی سی‘ نے انکشاف ہوا ہے کہ لسٹ میں کئی ووٹرز کے نام کے ساتھ غلط تصاویر لگی ہوئی ہیں، بعض مر چکے افراد کے نام بدستور موجود ہیں جبکہ متعدد ووٹروں کا اندراج ایک سے زیادہ بار ہوا ہے۔ دیہی علاقوں میں کئی لوگ اس عمل سے بے خبر پائے گئے۔ بعض کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کے ووٹ لسٹ سے خارج ہو گئے ہیں۔
اپوزیشن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) اور دیگر جماعتوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مسلم اکثریتی سرحدی اضلاع میں ووٹ کاٹ کر بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بلاک لیول افسران (BLOs) نے گھروں کا دورہ تک نہیں کیا اور فارم جمع کرانے کے عمل میں سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔
دوسری طرف بی جے پی اور جنتا دل (یونائیٹڈ) نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ لسٹ سے صرف غیر قانونی اور دہرا اندراج ہٹایا گیا ہے۔ بی جے پی رہنما بھیم سنگھ نے دعویٰ کیا کہ سرحدی علاقوں میں روہنگیا اور بنگلہ دیشی شہری آباد ہیں جنہیں لسٹ سے نکالنا ضروری ہے۔
معاملہ اس وقت بھارتی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے جہاں انتخابی اصلاحات کے لیے کام کرنے والے ادارے ADR نے خبردار کیا ہے کہ اس عمل سے لاکھوں غریب اور حاشیہ بردار ووٹرز، جن کے پاس مطلوبہ دستاویزات کم وقت میں مہیا کرنا ممکن نہیں، ووٹ کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔
عدالت نے اشارہ دیا ہے کہ اگر شکایات درست ثابت ہوئیں تو اس عمل کو انتخابات سے الگ کر کے مزید وقت دیا جا سکتا ہے۔
بھارت: راہول گاندھی، پریانکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنما دہلی میں گرفتاردوسری طرف بھارت کے دارالحکومت دہلی میں احتجاجی مارچ کے دوران اپوزیشن رہنماؤں راہول گاندھی، پریانکا گاندھی سمیت دیگر کو گرفتار کرلیا گیا۔
کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا بلاک‘ نے پیر کی صبح انتخابی کمیشن کے دفتر تک احتجاجی مارچ کیا، جس پر دہلی پولیس نے متعدد سینیئر اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ہونے والوں میں کانگریس کے راہول گاندھی، پریانکا گاندھی، اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے سنجے راوت شامل ہیں۔
راہول گاندھی نے حراست میں لیے جانے سے قبل میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ یہ لڑائی سیاسی نہیں، یہ آئین کو بچانے کی لڑائی ہے۔ یہ ایک شخص، ایک ووٹ کے اصول کے لیے جدوجہد ہے۔
پولیس کا مؤقف
پولیس کے مطابق اپوزیشن کو صرف 30 ارکان پر مشتمل وفد کو انتخابی کمیشن تک جانے کی اجازت تھی، لیکن 200 سے زائد افراد مارچ میں شریک ہوئے، جس سے امن و امان کی صورتحال خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔ ڈپٹی کمشنر پولیس دیویش کمار مہلا نے بتایا کہ کچھ ارکان نے بیریئرز عبور کرنے کی کوشش کی، جنہیں بعد میں حراست میں لیا گیا۔
احتجاج کی تفصیل
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر اپوزیشن کارکنوں اور رہنماؤں نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا کر نعرے بازی کی اور پولیس رکاوٹوں کو دھکیلنے کی کوشش کی۔ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو کو بیریئرز پر چڑھتے بھی دیکھا گیا، جبکہ ترنمول کانگریس کے مطابق ان کی 2 خواتین اراکین، بشمول مہوا موئیترا، بے ہوش ہو گئیں۔
احتجاج کی وجوہات
اپوزیشن نے الزام لگایا ہے کہ حکمران بی جے پی اور انتخابی کمیشن ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کر کے انتخابی نتائج کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان الزامات کا آغاز گزشتہ سال مہاراشٹر کے انتخابات سے ہوا تھا، اور اسی نوعیت کے شکوک لوک سبھا انتخابات میں کرناٹک کے حوالے سے بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
راہول گاندھی نے حال ہی میں انڈیا بلاک کے اجلاسوں میں پریزنٹیشنز پیش کر کے وسیع پیمانے پر ووٹر فراڈ کے ثبوت دینے کا دعویٰ کیا اور مطالبہ کیا کہ ووٹر لسٹ کا سرچ ایبل مسودہ جاری کیا جائے تاکہ غلطیوں کی نشاندہی ہو سکے۔
بہار میں ووٹر لسٹ کی ’خصوصی نظرثانی‘ پر بھی اپوزیشن نے سوالات اٹھائے ہیں، جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ عدالت نے یہ عمل جاری رکھنے کی اجازت دی مگر ہدایت دی کہ حقیقی ووٹرز کو خارج نہ کیا جائے اور جنہیں خارج کیا گیا ہے، انہیں اپیل کا موقع دیا جائے۔
الیکشن کمیشن اور بی جے پی کا ردعمل
الیکشن کمیشن نے اپوزیشن کے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے انہیں شفاف انتخابات کے خلاف ’غلط فہمی پھیلانے‘ کے مترادف قرار دیا ہے اور راہول گاندھی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے دعوے حلف نامے کے ساتھ جمع کرائیں۔
بی جے پی کے رہنما امیت مالویہ نے کہا کہ اگر راہول گاندھی کے پاس حقیقی ثبوت ہیں تو وہ ناموں کی فہرست کے ساتھ پیش کریں، ورنہ یہ محض سیاسی تماشہ ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت راہول گاندھی ریاست بہار.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت راہول گاندھی ریاست بہار راہول گاندھی کیا ہے کہ ووٹر لسٹ بی جے پی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔